بلوچستان اسمبلی اجلاس‘ مالی سال2021-22اور2022-23کے اخراجات مصدقہ گوشوارے ایوان کی میز پر دکھ دیئے گئےٹیسٹ و انٹرویو منسوخ کرنے کی رولنگ

کوئٹہ(ثبوت نیوز)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال 2021-22 اور مالی سال 2022-23 کے اخراجات کے مصدقہ گوشوارے ایوان کی میز پر دکھ دیئے گئے۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو ایک گھنٹہ 30 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی صدارت میں شروع ہوا

اجلاس میں صوبائی وزیر سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے مالی سال2021-22 اور مالی سال2022-23 بجٹ کے گوشوارے ایوان کی میز پر رکھے،اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے سلیم کھوسہ نے پوائنٹ آرڈر پرکہا کہ ہمارے علاقے میں کیسکوحکام چند افراد کے بل جمع نہ ہونے پر پورے علاقے کے ٹرانسفارمر اتار کر لے گئے ہیں

جس کی وجہ سے شدید گرمی میں علاقے کے عوام سخت پریشان ہیں دوسری جانب ہمارے علاقے کے عوام کا زریعہ معاش کادارومدار زراعت پرہے پٹ فیڈر کینال کے ذریعے ہمیں پانی کا پورا حصہ نہیں مل رہاہے سندھ حکومت سے بات کرکے اس مسئلے کو حل کیا جائے

پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے نے پوائنٹ آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے حلقہ انتخاب میں 9 بنیادی ہیلتھ سینٹر ہیں جن کے لئے علاقے کے عوام نے اس امید پر اپنی زمین مفت فراہم کی کہ وہاں علاقے کے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار دیا جائے گا

اب جبکہ محکمہ خزانہ سے مذکورہ بنیادی ہیلتھ یونٹ کی اسامیاں بھی منظور کی گئی ہیں لیکن محکمہ صحت کی جانب سے ٹیسٹ و انٹرویو میں حلقے کے بے روزگار نوجوانوں جن کے پاس ڈگریاں بھی موجود ہیں کو ٹیکنیکل طور پر فیل کرکے ان کی جگہ باہر سے من پسند افراد کو تعینات کیا جارہا ہے

جس کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے انہوں نے قائم مقام اسپیکر سے استدعا کی کہ وہ ٹیسٹ و انٹرویو منسوخ کرنے کی رولنگ دیں اس موقع پر نصراللہ زیرئے نے بطور احتجاج اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج بھی کیا اور کہا کہ آج وزیر صحت اجلاس میں موجود نہیں میں نے اپنے حلقے کے اس اہم مسئلے کے حوالے سے وزیرصحت، سیکرٹری صحت اور ڈی جی ہیلتھ کو آگاہ کیا

لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی، بعد ازاں قائم مقام اسپیکر نے نصراللہ زیرے کے حلقہ انتخاب میں محکمہ صحت میں ہونے والے انٹرویوز کو ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری صحت کو اسپیکر چیمبر میں طلب کرلیا، اجلاس میں جمعیت علما اسلام کے میر یونس زہری نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ

خضدار میں بڑی تعداد میں اسکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں،جس پر صوبائی وزیرتعلیم میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ ہمارے پاس اسامیاں خالی ہیں جلد خضدار کا دورہ کروں گا ہماری کوشش ہے کہ میرٹ پر اساتذہ کی خالی اسامیاں پر کی جائیں،بلوچستان نیشنل پارٹی کی شکیلہ نوید دہوار نے

پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مستونگ میں ایک گمنام خاتون ٹیچر 2020 سے تنخواہ لے رہی ہے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کیا جاچکا ہے لیکن اب تک نہ تو ٹیچر کا پتہ چل سکا اور نہ ہی ڈیوٹی پر حاضر ہوئی ہے رکن صوبائی اسمبلی حاجی نواز خان کاکڑ پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حلقے میں بھی صورتحال اسی طرح ہے اس کا نوٹس لیا جائے۔