تحریکوں کا آنا جمہوریت کا حسن اور ہماری اصلاح کا ذریعہ ہے‘ تحریک عدم اعتماد غلط وقت میں پیش کی گئی سابق وزیر اعلی جام کمال خان باپ کے صدر نہیں رہے ‘وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ(ثبوت نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد جمہوریت کا حصہ ہے لیکن تحریک عدم اعتماد غلط وقت میں پیش کی گئی سابق وزیر اعلی جام کمال خان بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر نہیں رہے

بلوچستان کی حکمران جماعت باپ پارٹی کو متحد کرنے میں لگے ہوئے ہیں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانیوالے دوستوں سے بھی رابطہ کرونگاحزب اختلاف کی جماعتوں کا مشکور ہوں مجھے سپورٹ کرنیوالے تمام افراد اور پارٹیوں کا کا بھی مشکور ہوں

تحریک عدم اعتماد سیاست کا حصہ ہے تحریکوں کا آنا جمہوریت کا حسن اور ہماری اصلاح کا ذریعہ ہے تحریکوں کا مقابلوں کرنے سے حکومت کو مزید استحکام ملے گا تحریک عدم اعتماد نے مزید فعال اور مضبوط کردیا ہے

کابینہ میں ردوبدل ہونے کا امکان نہیں ہے تاہم جمعیت علماء اسلام اور بی این پی نے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو خوش آمدید کہیں گے‘ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا

اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سینیٹر منظور احمد کاکڑ‘ صوبائی وزیر ایری گیشن حاجی محمد خان لہڑی‘ ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ بھی موجود تھے

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے سرخرو کیا باپ پارٹی کے تمام ممبران میرے لئے برابر ہے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ سب کو ساتھ لیکر عوام کی خدمت اور صوبے کی ترقی کیلئے کوشش کریں گے

بلوچستان کی حکمران جماعت باپ پارٹی کو متحد کرنے میں لگے ہوئے ہیں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانیوالے دوستوں سے بھی رابطہ کرونگاحزب اختلاف کی جماعتوں کا مشکور ہوں مجھے سپورٹ کرنیوالے تمام افراد اور پارٹیوں کا کا بھی مشکور ہوں

تحریک عدم اعتماد سیاست کا حصہ ہے تحریکوں کا آنا جمہوریت کا حسن اور ہماری اصلاح کا زریعہ ہے تحریکوں کا مقابلوں کرنے سے حکومت کو مزید استحکام ملے گا انہوں نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد کا آنا مسئلہ نہیں

مگر یہ غلط وقت میں پیش کی گئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جو کسی کو بری لگے منتخب حکومت اپنے لوگوں کیلئے کام کرنے کیلئے آئی ہے اور اسے ڈیلیور کرنے کا حق ملنا چاہئے قدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ انکے خلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش تک نہیں ہوسکی

سابق وزیر اعلی جام کمال خان باپ پارٹی کے صدر کے تھے مگر اب نہیں رہے انہوں نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل‘جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولاناعبدالواسع‘عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی‘ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ‘ گہرام بگٹی سمیت تمام اتحادیوں اورباپ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں

اور امید کرتا ہوں کہ وہ صوبے کی تعمیر و ترقی میں ہمارے ساتھ دیں گے اورصوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پارٹی میں گروپ بندی ضرور ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ سب کو ایک پیج پرلا کر پارٹی کو فعال اور مضبوط کرینگے

وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہاکہ اگر کوئی کام نہیں کرسکتا تو وہ کابینہ سے جاسکتا ہے لیکن میری شروع دن سے ایک اصول ہے کہ ہم کسی کو فارغ نہیں کرسکتے اور نہ ہی آنیوالے وقت میں کابینہ میں ردوبدل کرینگے تاہم جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت کا شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو ہم خوش آمدید کہیں گے۔