زیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد دلچسپ مرحلے میں داخل جمعیت علماء اسلام کی حمایت فیصلہ کن ہوگی

کوئٹہ(ثبوت نیوز)وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد دلچسپ مرحلے میں داخل جمعیت علماء اسلام کی حمایت فیصلہ کن ہوگی جام کمال اور انکے مخالف قدوس بزنجو دونوں ہی مولاناعبدالوادسع کو خوش کرنے کیلئے زور لگارہے ہیں واضح رہے کہ بلوچستان میں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہے

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور سنیئر سیاستدان یارمحمد رند نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے صوبائی اسمبلی میں درخواست جمع کی جبکہ گورنر بلوچستان نے اسمبلی اجلاس 26مئی کو طلب کرلیا ہے

اجلاس سے قبل ہر گروپ اپنا پڑا بھاری بنانے کیلئے کوشاں ہے اور اس وقت سب سے بڑی اہمیت جمعیت علماء اسلام اختیار کر گئے جام گروپ کے ترجمان نے بتایا کہ مرکز میں عمران خان حکومت کے خاتمے کیلئے

بلوچستان عوامی پارٹی نے مولانا فضل الرحمن اور موجودہ وزیراعظم کو اس شرط پر ووٹ دیاکہ وہ بلوچستان میں تبدیلی میں جام گروپ کے ساتھ دیں گے اس حوالے سے جام کمال اور جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر اور وفاقی وزیر مولانا عبدالواسع کے درمیان کئی رابطے ہوچکے ہیں

اسی طرح وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور مولانا عبدالواسع کے درمیان رابطوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے گزشتہ روز حکومت بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے واضح کردیا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی ہے

تحریک عدم اعتماد جمع کرنے والے اپنا شوق پورا کریں جمعیت علماء اسلام نے کسی کے ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور نہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے اور نہ اعلان ہوچکا ہے

بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کے درمیان صوبے کے عظیم تر مفادات کیلئے رابطوں کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس پر پیشرفت بھی ہوچکی ہے۔