فواد چوہدری کا مزید جسمانی ریمانڈمسترد، جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل منتقل درخواست ضمانت دائر،سماعت (آج ہفتہ) کو ہو گی،کمرہ عدالت کے باہر کارکنوں کی کثیر تعداد نعرے بازی کرتے رہی

اسلام آباد (ثبوت نیوز)جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمد راجہ کی عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے کیس میں گرفتارپاکستان تحریک انصاف کے رہنماء

فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کیلئے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فوادچوہدری کو جوڈیشل کرنے کا حکم دیدیا جبکہ فواد چوہدری کی ضمانت کی درخواست دائر کر دی گئی جس پر سماعت آج ہو گی۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سماعت کے دوران دوروزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پرپولیس نے سخت سیکیورٹی میں فوادچوہدری کو عدالت پیش کیا،اس موقع پر بابر اعوان، فیصل چوہدری،

علی بخاری اور دیگر وکلاء کے علاوہ پراسیکیوٹر اور الیکشن کمیشن حکام عدالت موجود تھے جبکہ کمرہ عدالت کے باہر کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی جو نعرے بازی کرتے رہے

دوران سماعت پراسیکیوٹر کی جانب سے فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہاگیا کہ فواد چوہدری کی وائس میچنگ ہوگئی ہے،فواد چوہدری سے ابھی ریکوریز بھی کرنی ہے

فواد چودھری کیس کی مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ بہت ضروری ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ فواد چودھری کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے،فواد چودھری نے اپنی تقریر کا اقرار بھی کیاہے،تقریر پر تو کوئی اعتراض اٹھا نہیں سکتا

بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ میں بھی فواد چودھری کے بیان میں شامل ہوں،اس موقع پر وکیل بابراعوان اور الیکشن کمیشن کے وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی

بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ ایٹمی ریاست کو موم کی گڑیا بنا دیاگیاہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ فواد چودھری کا بیان کسی ایک بندے کا بیان نہیں، ایک گروپ کا بیان ہے،بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ فواد چودھری کوئی کلبھوشن یا دہشتگرد نہیں ہے

کلبھوشن کے چہرے پر فواد چودھری کی طرح چادر نہیں ڈالی گئی،سیکٹری الیکشن کمیشن سرکار کے نوکروں کا بھی نوکر ہے،مجھے اپنے منشی پر فخرہے، وکیل بابراعوان نے فواد چوہدری کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے

اور الیکشن کمیشن کو وفاق کا حصہ بنانے کی استدعا کی،فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے لیے جدوجھد کررہیہیں،کربلا کا منظر بنایاجارہاہے، ہم حق سچ بات کریں گے،میں تحریک انصاف کا ترجمان ہوں

ضروری نہیں میری اپنی رائے ہو،میں نے اپنی جماعت کی ترجمانی کرنی ہے،جو میں نے بیان دیا وہ میری جماعت کا موقف ہے، مجھے اسلام آباد پولیس نے نہیں، لاہور پولیس نے گرفتار کیا،بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ فواد چودھری کو اغواء کیاگیاہے

فواد چوہدری نے استدعا کی کہ میرا موبائل فون پولیس کے پاس ہے، میری سم بند کی جائے،عدالت نے فوادچوہدری کینہتھکڑی کھولنے کی ہدایت کردی اور وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

اس دوران فواد چوہدری نے اپنی اہلیہ اور دیگر سے ملاقات کی، بعد ازاں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ میں سات روزہ توسیع کی استدعا مسترد کردی اور فوادچوہدری کو جوڈیشل کرنے کا حکم

سنادیا۔بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر دی گئی جس پر سماعت کل ہو گی، جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے درخواست سننے

کی معذرت کے بعد بلا خر ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے درخواست پر فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آج(ہفتہ) تک ملتوی کر دی۔