وزراء اپنے اپنے محکموں کی گورننس اور کارکردگی کو بہتر بنائیں، نگران حکومت کی اولین ذمہ داری پر امن ماحول کا قیام ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ(ثبوت نیوز)نگران وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا پہلا اجلا س یہاں منعقد ہوااجلاس کے آغاز پر کابینہ اجلاس میں صوبائی وزراء کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ

ہم سب کو معلوم ہے کہ نگران حکومت کی اولین ذمہ داری پر امن ماحول کا قیام ہے جبکہ صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد لئے الیکشن کمیشن کو معاونت کی فراہمی بھی ہماری ذمہ داری ہے نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ

کابینہ میں شامل تجربہ کار لوگ انکی ٹیم کا حصہ ہیں وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ہم سب کو اپنے مینڈیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے فرائض سرانجام دینا ہوں گے ہمارے مینڈیٹ میں صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ساتھ گورننس کی بہتری بھی شامل ہے

نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزراء اپنے اپنے محکموں کی گورننس اور کارکردگی کو بہتر بنائیں اور اپنے محکموں کی کارکردگی کی نگرانی کرتے ہوئے انہیں بھی باقاعدگی کے ساتھ رپورٹ ارسال کریں انہو ں نے کہا کہ ہماری مشترکہ کا وشوں سے حکومتی امور کی انجام دہی میں بہتری آئے گی

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ آئینی تقاضا ہے کہ ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی گائیڈ لائن پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اس گائیڈ لائن کے تحت ہمیں حاصل اختیارات سے باہر نہیں نکلنا چاہئے نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام نگران صوبائی وزراء اور مشیران کوگاڑیاں عملہ گھر اور دفاتر فراہم کرنا ایس اینڈ جی اے ڈی کی ذمہ داری ہے

وزراء اپنے محکموں سے کوئی ڈیمانڈ نہ کریں جس سے منفی تاثر پیدا ہو نگران وزراء سابق وزراء کے زیر استعمال اپنے اپنے محکموں کی گاڑیاں اور عملہ بھی فوری طور پر واپس لیں اور محکموں کے غیر ضروری اخراجات کو ختم کیا جائے

نگران وزیراعلیٰ نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ تمام وزراء صاحبان نہ صرف خود اپنے دفاتر میں باقاعدگی کے ساتھ کام کریں بلکہ محکمے کے افسران اور اہلکاران کو بھی دفتری اوقات کا پابند کریں

وزراء اپنے دروازے عام لوگوں اور سائلین کیلئے کھلے رکھیں اور کوشش کریں کہ ان کے مسائل حل ہوسکیں نگران وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ کابینہ صوبے کا سب سے بڑا فورم ہے اور یہاں ہونے والے فیصلے بھی اہم نوعیت کے ہوں گے

انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری کی توسط سے تمام سیکرٹریوں کو ہدایت ہے کہ وہ کابینہ کے فیصلوں پر من وعن عملدرآمد کریں اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی اور سست روی کا سخت نوٹس لیا جائے گا۔