ملک میں آزادی صحافت پر قدغن کسی صورت بھی قابل قبول نہیں نومبر کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کریگی

کوئٹہ(ثبوت نیوز)بلوچستان کے سیاسی جماعتوں‘ صحافتی‘ وکلاء اور مزدور تنظیموں سمیت انسانی حقوق کمیشن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک میں آزادی صحافت پر قدغن کسی صورت بھی قابل قبول نہیں آزاد میڈیا کے قیام اور صحافت کی آزادی یقینی بنانے کیلئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں

حکومت صحافت پر قدغن لگاکر ملک میں آمریت کو فروغ دینا چاہتی ہے پی ایف یو جے اپنے 19نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کیلئے نومبر کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرے گی‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں ایک روزہ میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کیا

اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان واحد صوبہ ہے جوہر حوالے سے نظر انداز کیاگیا ہے ملک کے دیگر علاقوں میں اگر قدغن لگارہے ہیں تو اس میں بلوچستان کو سرفہرست رکھاگیا ہے

عدلیہ‘میڈیا سمیت دیگر اداروں کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی اقدامات جاری ہے سب نے ملکر حکومت کی اس پالیسی کو ناکا م بنائیں گے میڈیا کے خلاف جو بل لایا جارہا ہے ان کو ہم مسترد کرتے ہیں جلد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بل کے خلاف لائحہ عمل اختیار کریں گے

بلوچستان میں 20دنوں سے جو سیاسی ماحول بنایاگیا ہے اس سے تمام کام مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں انہوں نے کہاکہ صحافی اور سیاسی جماعتیں شروع دن سے لیکر آج تک جدوجہد کی پیداوار ہے جس میں مزدو رطبقہ بھی شامل ہے لیکن بدقسمتی سے اس ملک کی سیکورٹی اسٹیٹ کی بنیاد اسے ڈالے گئے ہیں

کہ زندگی کے ہر شعبے میں یہ سیکورٹی ادارے مداخلت کررہی ہے اس وقت عدلیہ‘میڈیا اور مثبت سوچ رکھنے والوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے بلکہ پابندی عائد کیا جارہا ہے جہاں تک پارلیمنٹ کا تعلق ہے اس کو مذاق بنایاگیا ہے ان صورتحال میں نئے عمرانی معاہدے کی طرف لوگوں کی نظریں ہے اٹھارویں ترمیم بڑی جدوجہد کے بعد تشکیل دیاگیا

لیکن اس سے بھی ہمارے جو توقعات تھے وہ پورا نہیں ہوسکے اس وقت بحیثیت صحافی کوئی ایسا کردار ادا نہیں کرسکتے جو عوام کے مفاد میں ہو کیونکہ میڈیا پر اوپر سے طاقت ور قوتیں اور ساتھ میں مالکان بھی ملے ہوئے ہیں حکومت میڈیا پر جو قدغن لگایا جارہا ہے وہ آنیوالے وقت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس طرح حکومت کی جانب سے جو رویہ اختیار کیا اس کو تبدیل کیا جائے

انہوں نے کہاکہ ہم اسلام آباد کے صحافیوں کی نوٹس میں یہ لانا چاہتا ہو ں کہ پورے ملک میں تو ہر حوالے سے قدغن جاری ہے لیکن سب سے زیادہ متاثر بلوچستان ہے یہاں پر مختلف قسم کے حربے استعمال کررہی ہے ایوب خا ن اور ضیاء الحق کے مارشلاء میں طلباء تنظیموں کے خلاف جو کارروائی کی وہ آج ہمارے طلباء بھگت رہی ہے

اور طلباء اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے پریشان ہے انہوں نے کہاکہ میڈیا پر جو پابندی لگائی جارہی ہے اس صورت میں جو بل پیش کرنا چاہتے ہیں اس کی ہم مخالفت کرتے ہیں اور میڈیا کے دوستوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ا س جدوجہد میں ہم برابر شریک ہوں گے جلد اس اہم مسئلے کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھی اٹھائیں گے

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے حوالے سے بلوچستان سب سے بہتر صوبہ تھا لیکن گزشتہ 20دنوں سے جو حالات ہمارے سامنے تھے اس سے آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ ہم یہ مطالبہ نہیں کرتے ہیں کہ عوام ہمیں ووٹ دیں صرف یہ مطالبہ ضرور کریں گے کہ انتخابات کے دوران ٹھپے لگانے کا سسٹم ختم کیا جائے۔

اس موقع پر سیمینار بحث کو سمیٹتے ہوئے پی ایف یو جے کے مرکزی صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہاکہ جب تک تنقید کی بجائے تو سننے کو حوصلہ بھی ہونا چاہئے وکلاء اور میڈیا سے غلطیاں ضرور ہوئی ہے میڈیا جب تک مر نہ جائے اس وقت تک جمہوریت کو ہڑپ نہیں کیا جاسکتاعامل صحافیوں کے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے پی ایف یو جے نے کبھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا

اور ہماری قیادت نے ہمیشہ عوامی مفاد کو افضل رکھنے کی روایات قائم رکھی اور دو کشتی کے سوار کبھی نہیں بنے میڈیا صرف اپنی آزادی کی جنگ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بقاء کی جنگ بھی لڑرہا ہے میڈیا پر مختلف قسم کے قدغن پر نظر ثانی ہونی چاہئے میڈیا میں مثبت رپورٹنگ کے نام سے مخصوص ذہن کے مفاد کی بجائے مفاد عامہ سر فہرست رکھیں گے

سوشل میڈیا پر پابندی ہر شہری کا مسئلہ ہے کیونکہ معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے کوئٹہ سے اسلام آباد تک دس سے پندرہ نومبرتک مجوزہ لانگ مارچ میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اپنے ہمراہ چلنے کی دعوت دیتے ہیں مشترکہ لائحہ عمل طے کرکے قدغن کو روکنے کیلئے سیاسی جماعتیں اسے اپنی تحریک سمجھ کر میڈیا کا ساتھ دیں۔

اس موقع پر پاکستان یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی سیکرٹری جنرل ناصر حسین زیدی نے کہا کہ بلوچستان نے ہمیشہ صوبائی خود مختاری کیلئے مقتدر قوتوں کو چیلنج کیا اور جنہوں نے ملک پر آمریت مسلط کی ان کو للکارا بلوچستان واحد صوبہ ہے جس کے سیاستدان پھانسی چڑھے کوڑے کھائے اور ون یونٹ کے خاتمے میں بلوچستان کا جو کرداررہا ہے وہ ناقابل فراموش تھا اصلاحات سے متعلق جو نکات میڈیا اتھارٹی بل کے لئے مرتب کیے گئے ہیں

ان کو فوری معطل کیے جائیں پی ایف یو جے نے 8اکتوبر1958کو بھی اپنی قرارداد میں کہا تھا کہ ماروائے آئین اقدام قابل مذمت ہے ملک کے بڑ ے اخبارات میں اس وقت کے حکمرانوں نے قبضہ جمایا جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی پر قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا نئے ریگولیٹری اتھارٹی کو اب بھی ہم پوری قوت سے للکارہے ہیں حکمرانوں کی جانب سے تجویز کردہ مثبت رپورٹنگ کا مطلب اداروں اور حکمرانوں کے مخصوص نقطہ نظر کو پرموٹ کرنا ہے

جس سے ترقی کی بجائے ملک تباہی کی طر ف جائے گا سیاسی کارکن اور صحافی ایسا ہونے نہیں دیں گے اور نہ ہی پی ایف یو جے نے ایسے قانون تسلیم کیے ہیں جس سے اظہار رائے کو قید کیا جائے اب عدلیہ کو بھی قابو کرنے کی باتیں ہورہی ہے دنیا میں جہاں بھی آئینی قوتیں ہے اسی قدغن برداشت نہیں کیے جاتے میڈیا اتھارٹی بل میں چار نکات وضح کیے گئے ہیں

متنازعہ بل کے خلاف میڈیا نے پریشر گروپ بنایا جس کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے درمیان ایک متفقہ رائے پیدا ہوئی پی ایف یو جے نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ ہوگا آج اگر ہم خاموش رہے تو آنیوالا وقت کبھی معاف نہیں کرے گا بلوچستان کے تمام ساتھی اس دفاعی تحریک میں پی ایف یو جے کا ساتھ دیں

اس جنگ کو ہم نے جیتنا ہے اظہار رائے کو تحفظ تب ملے گا جب ایسے عوام کی سپریم قوت کی حمایت حاصل ہو جائے۔اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ آزادی صحافت ایک ایسا بنیادی حق ہے جس کو آئین تسلیم کرتا ہے

اور اس کی ضمانت دیتا ہے حق کی آواز کو مخصوص انداز میں ایسے بیان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کسی کی سمجھ میں نہ آئے کہ آزادی اظہار کو دبانے کا کام ہے کسی ایک جماعت کا پیدا کردہ نہیں غلط کام کون کرواتا ہے

سب جانے ہیں زورآور قوتوں کو کوئی برانہیں کہتا لیکن دوسروں کو غلط کہنے سے قبل سیاسی کارکنوں کو اپنے آپ کو غلط استعمال سے روکنے کی جرآت پیدا کرنا ہو گی اظہار آزادی اور معاشی حالات ٹھیک نہ ہونے کے وبڑے مسائل جن سے صحافی نبرد آزما رہتے ہیں

جس وقت تک معاش کا تحفظ نہیں ملتا اس وقت تک جدوجہد نہیں ہوسکتی اس وقت مل کو نئے عمرانی معاہدے کی اشد ضرورت ہے آئین پر عملدرآمد نہ کرنے جگہ سیاسی کارکن خود فراہم کرتے ہیں ملک کو بچانے کیلئے بلوچستان سے تحریک شروع کرنا خوش آئند ہے

19نکاتی مطالبات میں صحافی بابر خان کا کیس دوبارہ کھولنے اور میڈیا اتھارٹی بل کے خلاف عدلیہ کو دوبارہ آزمایا جائیں کیونکہ بہتری کے لئے کوشش کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔اس موقع پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی و صوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پی ایف یو جے کی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے آئین میں ہر ادارے کے دائرہ کا تعین کردیاگیا ہے

جمہوریت کی آواز بلند کرنے کیلئے ہم زندانوں میں بھی رہے ہیں میڈیا مساوی انداز میں خبروں کو شائع اور نشر کریں ملک کو بحرانوں کا سامنا ہے حکمرانوں کو عقل کے ناخن لیکر اکائیوں کی خود مختاری اور میڈیا کی آزادی دینے کیلئے ہر وحدت کو اپنے وسائل پر اختیار دینا ہوگا اداروں میں مداخلت ملک کیلئے ہر گز نیک شگون نہیں ہے

ملک اور قوم کی بقاء کیلئے اپنا جمہوری طریقے سے آئینی کردار ادا کرنا ہوگا سیاسی کارکنوں اور میڈیا کی بقاء کی جنگ میں اس کے ساتھ ہے جس جماعت کے بانی بلوچستان میں صحافت کی بنیاد رکھے کیونکر آزادی صحافت کی جنگ نہیں لڑیں ۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدرافضل بٹ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ ظلم و جبر کے خلاف مذاحمت کی ہے

ماضی میں بلوچستان کے گلی کوچوں سے لوگوں کو غائب کیاگیا آپریشنز کیے گئے مگر بلوچستان کے عوام نے کبھی ظالم حکمرانوں کے ساتھ نہیں جھکے اور اپنے مذاحمت کو جاری رکھا آج ہم میڈیا کی آزادی کی جنگ کے لئے لانگ مارچ کا آغاز بھی بلوچستان سے کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ بلوچستان کے سیاسی جماعتیں وکلاء‘ مزدور تنظیمیں اور عوام ہمارے ساتھ ملکرمیڈیا کی آزادی پر عائد پابندیوں کے خلاف اور بنیادی حقوق سمیت آئین و قانون کی بالادستی کی اس تحریک میں ہمارے شانہ بشانہ ہوں گے

انہوں نے کہاکہ پی ایف یو جے دونومبر کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے جس کے لئے آپ سب نے اس لانگ مارچ میں ہمارا بھرپور ساتھ دینا ہے۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلمان اشرف نے کہاکہ صحافیوں کی آواز کو کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی اور آمرانہ اقدام سے نہیں دبایا جاسکتا صحافیوں نے ہمیشہ اپنے حقوق کے تحفظ اور آزادی صحافت کیلئے قربانیاں دی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا انہوں نے کہاکہ کوئٹہ سے لانگ مارچ کا آغاز ہوگا

جو اسلام آباد تک جائے گا اس میں تمام سیاسی جماعتیں وکلاء تنظیمیں‘مزدور اور لیبر یونیز سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں ہمارا ساتھ دے انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ میں شرکت کے لئے ہم رابطوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اس مقصد کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ سیاسی کارکنوں کیلئے صحافت آنکھ کان کا درجہ رکھتے ہیں صحافت کی وجہ سے عوام حالات باخبر رہتے ہیں میڈیا کے 19 نکاتی مطالبات خود میڈیا کے اپنے اداروں سے ہیں عامل صحافی کے مسائل کی وجہ اداروں کے مالکان خود بھی ہے صحافی دو طرفہ مسائل میں پسے ہوئے ہیں لوگوں کو ان کی باتوں کو اجاگر کرنے کیلئے انہیں بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں

حکومت کا قبلہ درست ہوچاہئے تو میڈیا مالکان کو قوانین کا پابند کیا جاسکے میڈیا اتھارٹی بل صحافت کو تباہ کرنے کیلئے ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر جمال شاہ کاکڑ نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) ہمیشہ آزاد میڈیا کے حامی رہی ہے اور آزادی صحافت کے لئے آواز اٹھائی

انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی تمام تر اقدامات آمرانہ ہے اور ملک میں آئین کو پامال کیا جارہا ہے پارلیمنٹ کی بالادستی نہ ہونے کے برابر ہے وزیراعظم کی سوچ آمرانہ ہے جو خود کو کسی آئین و قانون کا پابند نہیں سمجھتا انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) پی ایف یو جے کے تمام 19نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور ہم اس لانگ مارچ میں آپ کے ساتھ ہوں گے

انہوں نے کہاکہ ہم آپ کے مطالبات پی ڈی ایم کے اجلاس میں بھی رکھیں گے اور پی ڈی ایم کی پلیٹ فارم سے آپ کی جدوجہد کے حمایت کریں گے۔جمعیت علماء اسلام نظریاتی بلوچستان کے امیر مولانا عبد القادر لونی نے کہاکہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو میڈیا اور اظہار آزادی رائے پر تالہ بندی تصور کرتے ہیں میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی سیاہ آمرانہ قانون ہے جسے پوری قوم نے مسترد کردیا

میڈیا کی آزادی سلب کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت ہی اس ملک کی تعمیر ترقی کا ضامن ہے اور اسی کے ذریعے ملک میں جمہوریت مستحکم و مضبوط ہو گی آمریت کا راستہ رکے گا اور احتساب کا عمل آگے بڑھے گا۔

کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں صحافت کو قید وبند اور پابندیوں سے دبایا جارہا ہے اور یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ جب تک آزادی اظہار رائے نہیں ہو گی تو نہ صرف میڈیا بلکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی آزادیاں بھی سلب ہو جاتی ہے ہر دور میں صحافیوں نے آزادی سلب کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھائی پی ایف یو جے اور بی یو جے سمیت صحافتی تنظیموں نے ہمیشہ آزادی صحافت کیلئے جدوجہد کی ہے

اور تحریک چلائی اب ایک بار پھر صحافی برادری آزاد میڈیا کا قیام و آزادی صحافت پر قدغن لگانے کیلئے بنائے گئے قوانین کے خلاف برسرپیکار ہے اور لانگ مارچ کرنے جارہے ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سیکرٹر ی اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے اپنے پارٹی کی جانب سے پی ایف یو جے اور بی یو جے کو لانگ مارچ کیلئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہاکہ انسانی حقوق کے تحفظ جمہوریت کے استحکام اور آئین و قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے آزاد میڈیا اور صحافت کی آزادی انتہائی ضروری ہے۔

بلوچستان بار کونسل کے رہنماء ایڈووکیٹ راہب بلیدی نے کہاکہ میڈیا نے عدلیہ کے آزاد کی تحریک میں وکلاء کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور صحافی برادری آزاد عدلیہ کی تحریک میں ہمارے شانہ بشانہ رہی انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے بل کے ذریعے ملک میں آزاد میڈیا کا گلہ گھونٹنا چاہتی ہے اور آزادی صحافت پر قدغن لگانے کیلئے اقدامات کرتی ہے

وکلاء تنظیمیں آزاد میڈیا کی تحریک میں پاکستان یونین آف جرنلسٹس اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی بھرپور حمایت کرتی ہیں ہم جدوجہد میں صحافی برادری کے شانہ بشانہ ہوں گے۔بلوچستان لیبر فیڈریشن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالمعروف آزاد نے کہاکہ پاکستان میں ہمیشہ مظلوموں اور مزدوروں کو آواز کو دبانے کیلئے آمرانہ اقدامات کیے گئے

آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئی انہوں نے کہاکہ مزدوروں نے ہمیشہ اپنے حقوق کی تحفظ کیلئے جدوجہد کی اور اس کیلئے قربانیاں دی انہوں نے کہاکہ میڈیا کو مزدور وں کی آواز بنناچاہئے اور ہمارے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھانا چاہئے انہوں نے کہاکہ بلوچستان لیبر فیڈریشن پی ایف یو جے کے لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور ہم بھرپور تعاون کریں گے۔کنونشن سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سنیئر نائب صدر سلیم شاہد‘ پی ایف یو جے کے سابق سیکرری جنرل ایوب جان سرہندی‘ بی یو جے کے جنرل سیکرٹری فتح شاکراور دیگر نے بھی خطاب کیا۔