کوئٹہ میں ترقیاتی اسکیم میں لاکھوں روپے کا غبن، ڈائریکٹریٹ آف اینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاریٹرمپ نے ہتھیار ڈال دیئے، برطانیہ سمیت تمام ممالک اپنی توانائی ضروریات خود پورا کریں، امریکہ کسی قسم کی مدد نہیں کرے گا وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدہ صورت حال کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے، انہیں چاہیے کہ وہ یا تو امریکا سے تیل خریدیں یا خود اس خطے میں جا کر اپنے مفادات اور توانائی ضروریات کا تحفظ کریں، بیان ایران جنگ کے حوالے سے آئندہ چند روز فیصلہ کن ثابت ہوں گے امریکہ بخوبی جانتا ہے روس اور چین ایران کی کس قسم سے مدد کر رہے ہیں، ایران کو معلوم ہونا چاہیے اس کے پاس اب عسکری طور پر آپشنز نہ ہونے کے برابر ہیں، سمجھداری اسی میں ہے فوری معاہدہ کرلے ، صدر ٹرمپ کے تمام آپشنز مان لے، ایران کے خلاف زمینی کارروائی کو رد نہیں کیا جاسکتا، پیٹ ہیگسِتھ ، پینٹاگون چیف پشین، شہر اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش، نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے برشور، توبہ کاکڑی اور خانوزئی سمیت مختلف علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی، موسم خوشگواربلوچستان عوامی پارٹی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ضم کرنے کا فیصلہ جلد اعلان متوقع با پ پارٹی کو مسلم لیگ ن میں ضم ہونے کے بعد آئندہ ڈھائی سال کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان باپ پارٹی کی حصے میں آئے گا۔۔۔۔۔۔ِ؟ وزیراعلیٰ ہوگا‘ اہم ذرائعبلوچستان کے 8 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، بی ایل اے کے 32 دہشت گرد ہلاک اور 11 گرفتار پنجگور میں اہم کمانڈر نذیر عرف چاکر ساتھیوں سمیت ہلاک، خاران میں ڈرون حملے، افغانستان سے لایا گیا امریکی اسلحہ برآمدالیکشن کمیشن آف پاکستان کا این اے 256 خضدار میں ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری حکومت کی درخواست پر 5 اپریل کو ہونے والا انتخابی شیڈول معطل، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو بریفنگ کے لیے طلب کر لیا گیاکوئٹہ،اندرونِ ملک ٹرین سروس معطل، جعفر ایکسپریس پشاور کے لیے روانہ نہ ہو سکی ریلوے ٹریک کی مرمت کے باعث آپریشن متاثر، پشاور سے آنے والی ٹرین کو جیکب آباد پر روکنے کا فیصلہچمن اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.1 ریکارڈ، شہریوں میں خوف و ہراس زلزلے کا مرکز چمن سے 120 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا، جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، ضلعی انتظامیہجھل مگسی، دہشت گردوں سے مقابلے میں زخمی ہونے والے ایس ایچ او سمیت 3 اہلکار کراچی منتقل وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر زخمیوں کو آغا خان ہسپتال میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، سی ایم سیکرٹریٹ کوئٹہ میں ماہ رمضان کے آخری عشرے میں پیشہ ور بھکاریوں کی بھرمار شہری اور دکاندار پریشان ضلعی انتظامیہ اور دیگر کنٹرول کرنے والے ادارے خاموش شہریوں کو مشکلات کا سامناپی بی 36 قلات میں ہونے والا الیکشن دراصل الیکشن نہیں بلکہ ایک آکشن تھا1 قلات کی نشست پر ہمارے امیدوار کو تقریباً 2000 ووٹوں کی برتری حاصل تھی، لیکن نتائج میں رد و بدل کر کے حقائق کو تبدیل کیا گیا‘صوبائی امیر جمعیت‘ مولانا عبدالواسعبلوچستان کو تھانوں اور چیک پوسٹوں کے بجائے قلم اور کتاب کی ضرورت ہے نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، اسلامی جمعیت طلبا کی تعلیمی و اخلاقی تربیت کے لیے خدمات قابلِ تعریف ہیں، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ1کوئٹہ میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈان، 116ملزمان گرفتار پولیس کارروائیوں میں 4 گاڑیاں، 56 موٹر سائیکلیں اور 14 موبائل فون برآمدوزیراعلی بلوچستان کا کفایت شعاری کا بڑا اعلان صوبائی وزرا دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے، سرکاری دفاتر ہفتے میں چار دن کھلیں گے شادی بیاہ میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود اور ایک ڈش کی پابندی، تعلیمی اداروں میں 23 مارچ تک بہار کی تعطیلات کا اعلان
’’ثبوت نیوز‘‘ میں کیسے لکھا جائے؟

مضمون ان ہدایات کے مطابق بھیجیں تاکہ آپ کا بھیجا گیا مضمون جلد پراسیس کیا جا سکے، ان ہدایات کے آخر میں ای میل دی گئی ہے جس پر مضمون بھیجاجائے۔درج ذیل ہدایات کے مطابق معلومات بھیج سکتے ہیں

  1. مضمون (ای میل/ ان پیج/ مائیکروسافٹ ورڈ فارمیٹ میں)
  2. آپ کی تصویر
  3. شناختی کارڈ یا سٹوڈنٹ کارڈ وغیرہ کی تصویر
  4. فیس بک پروفائل کا لنک (برائے رابطہ)
  5. فون نمبر (برائے رابطہ)

اشاعت کب کیسی ہو گی؟

مضمون اشاعت کے لئے انتظامیہ کو فوراً میسیج یا فون پر پیغامات بھیجنے سے گریز کریں۔ (ثبوت نیوز) کے رول کے مطابق ای میل دیکھی جاتی ہے آپ کے فون کرنے یا پیغام بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر مضمون تین دن تک شائع نہیں ہوا تو رابطہ کریں۔ مضمون شائع ہونے پر سسٹم آپ کو خودکار طریقے سے آپ کی دی گئی پروفائل لنک پر بھیج دے گا۔


’’ثبوت نیوز‘‘ کی ٹیم مضمون کا جائزہ لے گی اور اگر مضمون معیاری ہوا اور ہمارے پاس اسے شائع کرنے کی گنجائش تھی تو اسے شائع کر دیا جائے گا۔’’ثبوت نیوز‘‘ ایسے مضامین شائع کرنے کو ترجیح دیتا ہے جو خاص طور پر صرف (ثبوت نیوز) کے لئے ہی لکھے گئے ہوں اور کسی دوسری جگہ اشاعت کے لئے نہ بھیجے گئے ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بھیجا ہوا مضمون لازمی طور پر شائع کیا جائے۔ ٹیم کسی بھی مضمون کو مسترد یا قبول کر سکتی ہے اور وہ وجوہات بیان کرنے کی پابند نہیں ہے۔ مضمون عموماً دو یا زیادہ سے زیادہ تین دن میں شائع کر دیا جاتا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ مضمون موصول ہوتے ہی جلد از جلد شائع کیا جائے۔ لیکن پہلے سے آئے ہوئے دیگر مضامین اور دستیاب عملے پر کام کے لوڈ وغیرہ جیسی وجوہات کی بنا پر تاخیر ہو سکتی ہے۔

کمپوزنگ

مضمون کمپوز کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ہر لفظ کے بعد ایک سپیس ڈال رہے ہیں۔ ہر جملے کے اختتام پر فل اسٹاپ ضرور ڈالیں۔ ایک سے زیادہ رموز اوقاف استعمال مت کریں، ایک ہی کوما، فل اسٹاپ یا دیگر علامت لکھیں اور ،،، یا۔۔۔۔ یا ؟؟؟ یا !!!! وغیرہ لکھنے سے گریز کریں۔

خاص طور پر’’کی ‘‘اور ’’کے‘‘ کے بعد ایک سپیس دینے کی کوشش کریں۔ آئینگے ، آئینگی ،جائینگے،جائینگی وغیرہ کی بجائے ’آئیں گے ‘ ’آئیں گی ‘ جائیں گے،آئیں گے، لکھنے کی کوشش کریں،لکھا جائے تو بہتر ہے۔ انکی، جسکی، انکو، آپکی ، آپکے ، انکے اور جسکے کی بجائے ان کی، جس کی، ان کو، آپ کی ، آپ کے ، ان کے اور کے لکھنے کی کوشش کریں۔انگریزی الفاظ لکھنے سے گریز فرمائیں۔ اگر انگریزی لفظ بھی ہے تو اسے اردو املا میں لکھنے کو ترجیح دیں۔
سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ مضمون کو ای میل میں ہی لکھ دیں۔ لیکن آپ مضمون کو ان پیج، مائیکروسافٹ ورڈ یا ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں بھیج سکتے ہیں۔

تحریر اور موضوعات

اپنا مضمون بھیجنے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ ضرور پڑھیں۔ کوشش کریں کمپوزنگ کی غلطیاں خود نکال لیں جس تحریر میں کم غلطیاں ہوں، اس پر ایڈیٹر کی کم وقت لگتی ہے، اور وہ جلد شائع ہو سکتی ہے۔
تحریر کی طوالت 700سے 1200 الفاظ کے درمیان ہونی چاہیے۔ بعض صورتوں میں استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ پالیسی کے خلاف ہو، اسے حذف یا تبدیل کرنا اور بات کو واضح کرنے کے لئے متن میں تبدیلی کرنا، کسی بھی ایڈیٹر کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر آپ ایڈیٹر کے اس اختیار سے متفق نہیں ہیں تو، براہ کرم اپنا مضمون کسی اور جگہ شائع کرنے کے لئے بھیجیں، ہم اسے شائع کرنے سے قاصر ہیں۔
مضمون لکھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور مضمون بھیجتے ہوئے آپ اس بات کے بارے میں سوچ لیں کہ آپ کو اس مضمون پر آنے والے اچھے یا برے عوامی ری ایکشن یا قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے خوب سوچ سمجھ کر مضمون لکھیں۔ ’’ثبوت نیوز ‘‘ کی ادارتی ٹیم ایڈیٹنگ کرتے ہوئے حتی المقدور کوشش کرتی ہے کہ مضمون میں موجود ایسا مواد ٹھیک کر دیا جائے جو پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔ مضمون بھیجنے سے پہلے خوب غور کر لیں کیونکہ عام حالات میں مضمون شائع ہونے کے بعد سائٹ سے ہٹایا نہیں جائے گا۔
اگر آپ کسی دوسرے مصنف کے مضمون کا جواب لکھ رہے ہیں، یا حالات حاضرہ پر عمومی تبصرہ کر رہے ہیں تو اس فرد کو نشانہ بنانے کی بجائے اس کے موقف پر بات کریں۔ مضمون میں اگر کسی کی کردار کشی کا پہلو ہو تو اس کے شائع ہونے کا امکان بہت کم ہے۔مضمون میں اگر آپ کسی واقعے، فرد یا جگہ وغیرہ کا ذکر کر رہے ہیں تو پہلے کسی ماخذ سے اپنے بیان کی درستی کا یقین کر لیں۔
’’ثبوت نیوز‘‘ میں ادارتی پالیسی بالکل واضح ہے۔ دائیں اور بائیں کی کوئی قید نہیں۔ مذہبی اور غیر مذہبی نقطہ نظر پر کوئی پابندی نہیں۔ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر کوئی تحریر روکی نہیں جاتی۔ اظہار کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اظہا ر کی آزادی میں بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ صحیح یا غلط ، دلیل سامنے آئے گی تو اس کے رد میں موجود دلیل کو بھی سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ ذہانت پر صحافی کا اجارہ نہیں۔ پڑھنے والا سب سے زیادہ ذہین ہے۔ وہ پڑھے گا۔ سوچے گا اور دلیل کو قبول یا رد کرے گا۔ اگر صحافی دلیل کو روک لے گا تو پڑھنے والے کو معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کرے گا۔ اس میں معمولی سی شرط یہ ہے کہ صحافت میں ناشائستہ لب و لہجہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کو گالی نہیں دی جا سکتی۔ کسی مذہبی ، ثقافتی یا نسلی گروہ کے خلاف اشتعال نہیں پھیلایا جا سکتا۔ نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کسی کو جرم کی ترغیب دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ قانون شکنی کی حمایت نہیں کی جاتی۔ کسی جرم پر اکسانا اظہار کی آزادی میں شامل نہیں ہوتا۔
’’ثبوت نیوز‘‘کو آپ کی تحریریں شائع کر کے خوشی ہو گی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ’’ثبوت نیوز‘‘ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر سکے جہاں پاکستان میں ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کھلے دل و دماغ سے ایک پرامن اور مفید اجتماعی مکالمے کا حصہ بن سکیں۔

’’ثبوت نیوز‘‘ کیلئے لکھنے والوں سے چند گزارشات

’’ثبوت نیوز‘‘آزادی اظہار کے لیے ایک کھلا پلیٹ فارم ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں ادارے کو مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لکھنے والوں کا اعتماد بھی حاصل ہوا ہے اور پڑھنے والوں سے بھی پذیرائی ملی ہے۔ یہاں کچھ لکھنے والے کہنہ مشق ہیں اور کچھ ابھی اپنے تجربے کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔
ہم ہر طرح کے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاہم ہماری صحافت کے موجودہ معیارات کے پیش نظر کچھ نکات کی نشان دہی بہت ضروری ہے۔ کسی لکھنے والے پر ذاتی تنقید نہیں۔ اردو میں لکھنے والے مختلف پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کسی نے مذہبی مدارس میں تعلیم پائی ہے ، کوئی سرکاری تعلیمی اداروں سے فیض یاب ہوا ہے اور کچھ لکھنے والے مغربی طرز کے اداروں سے مستفید ہوئے ہیں۔ ہمارے کچھ لکھنے والوں کا ذہنی رجحان قدامت پسندی کا ہے۔ ہمارے کچھ لکھنے والے جدید رجحانات رکھتے ہیں۔ ہم ان سب کو اپنا سرمایہ سمجھتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے صحافت کے ایک بنیادی منصب کو ختم کر دیا ہے جسے ادارتی چھلنی کہا جاتا تھا۔ صحافت میں ادارتی عملے کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ تحریر کے زبان و بیان کا جائزہ لے۔سوشل میڈیا پر ہم اپنی تحریر براہ راست پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ لکھنے والا ہمیشہ ایک کیفیت اور موقف کے زیر اثر ہوتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ کسی تحریر کو پڑھنے والوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ایک ایسا فرد ضرور دیکھ لے جو متعلقہ کیفیت اور موقف سے بے نیاز ہو۔ یہ مدیر کا منصب ہوتا ہے۔اگر کوئی ادب میں نوبل انعام یافتہ ادیب بھی ہو تو اس کی تحریر کو بھی نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ادب میں مدیر کا ادارہ کبھی مستحکم نہیں ہو سکا۔ صحافت میں ادارتی عملہ موجود ہوتا تھا۔ سوشل میڈیا نے اس کی ضرورت بھی ختم کر دی۔ اب ہم جو چاہتے ہیں، لکھتے ہیں۔ اور جس انداز میں چاہتے ہیں، لکھتے ہیں اور پھر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں کے پرزے اڑا کر رکھ دیے ہیں۔ یہ اچھی صحافت کا نشان نہیں۔
اس سے قطع نظر کہ لکھنے والے کا موقف کیا ہے، یہ تو واضح ہے کہ جس زبان میں لکھا جا رہا ہے گرامر کے اعتبار سے وہ زبان درست لکھنی چاہیے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے غلط تحریر درجہ اعتبار سے گر جاتی ہے۔ مشکل زبان میں لکھنے سے تحریر کا وزن نہیں بڑھتا بلکہ غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ لکھنے والے کا فرض ہے کہ وہ جو لفظ استعمال کرے اس کے معنی اور کیفیت سے پوری طرح آشنا ہو۔ اسی طرح بازاری زبان لکھنے سے پڑھنے والے کو متاثر کرنا غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
صحافی ایک فرد کی حیثیت سے قلم اٹھاتا ہے لیکن اس کی اخلاقی حیثیت اجتماعی ہے۔ چنانچہ صحافت میں ’صیغہ متکلم‘ ایک ناقابل قبول طرز بیان ہے۔ پڑھنے والے کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ صحافی کے والدین کون تھے۔ احباب کون ہیں۔ لکھنے والے کی ذاتی معاشرتی ترجیحات کیا ہیں۔ سیاسی رجحانات کیا ہیں۔ بے شک لکھنے والے کے سیاسی رجحانات بھی ہوتے ہیں۔ معاشرتی میلان بھی ہوتے ہیں لیکن پیشہ ورانہ کام کرتے ہوئے صحافی کی ذات غیر اہم ہو جاتی ہے۔ صحافت میں وہ تحریر کمزور بلکہ ناگوار سمجھی جاتی ہے جس میں بار بار لکھنے والا اپنی ذات کا ذکر کرتا ہے۔اور صیغہ متکلم استعمال کرتا ہے

اپنے مضامین اس ای میل ایڈریس پر بھیجیں۔

dailysaboot6@gmail.com
sabootnews2018@gmail.com