کورونا کے سبب تجارت مثاثر ہوئی، کئی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیں: اسٹیٹ بینک 15 جون سے تمام اسکول کھولنے کا اعلانافغانستان۔ مثبت اور کرشمانہ پیش رفت’شواہد نہیں ملے جن سے پتہ چلے کہ عمران فاروق کے قتل کا حکم بانی متحدہ نے دیا‘'بھاشا ڈیم 2028 تک مکمل ہو گا، 30 فیصد رقم حکومت دے گی'میر شکیل کی گرفتاری کیخلاف احتجاجی کیمپ میں نامعلوم افراد گولیاں پھینک کر فراربلوچستان حکومت کا فوری طور پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہبلوچستان: دہشتگردی کے دو مختلف واقعات میں 7 جوان شہیدکل سے ٹرین سروس کا آغاز، مسافروں کے لیے ایس اوپیز جاریعمر اکمل نے تین سالہ پابندی کی سزا کو چیلنج کردیاحکومت کا ملک کے تمام بڑے ائیر پورٹ ٹھیکے پر دینے کا فیصلہآخری عشرے میں مساجد آباد کریں، نماز عید بھی باجماعت پڑھیں: مفتی تقی عثمانیحلیمہ کے بعد ارطغرل کے ایک اور نامور کردار کی پاکستان آنے کی خواہشعوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما غلام بلور کورونا وائرس میں مبتلا اپوزیشن والوں کو اپنے کورناوائرس سے زیادہ اپنے مفادات کی فکر ہے یوم علی کے موقع پربغیر اجازت جلوس نکالا گیا خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی‘ضیا لانگو
’’ثبوت نیوز‘‘ میں کیسے لکھا جائے؟

مضمون ان ہدایات کے مطابق بھیجیں تاکہ آپ کا بھیجا گیا مضمون جلد پراسیس کیا جا سکے، ان ہدایات کے آخر میں ای میل دی گئی ہے جس پر مضمون بھیجاجائے۔درج ذیل ہدایات کے مطابق معلومات بھیج سکتے ہیں

  1. مضمون (ای میل/ ان پیج/ مائیکروسافٹ ورڈ فارمیٹ میں)
  2. آپ کی تصویر
  3. شناختی کارڈ یا سٹوڈنٹ کارڈ وغیرہ کی تصویر
  4. فیس بک پروفائل کا لنک (برائے رابطہ)
  5. فون نمبر (برائے رابطہ)

اشاعت کب کیسی ہو گی؟

مضمون اشاعت کے لئے انتظامیہ کو فوراً میسیج یا فون پر پیغامات بھیجنے سے گریز کریں۔ (ثبوت نیوز) کے رول کے مطابق ای میل دیکھی جاتی ہے آپ کے فون کرنے یا پیغام بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر مضمون تین دن تک شائع نہیں ہوا تو رابطہ کریں۔ مضمون شائع ہونے پر سسٹم آپ کو خودکار طریقے سے آپ کی دی گئی پروفائل لنک پر بھیج دے گا۔


’’ثبوت نیوز‘‘ کی ٹیم مضمون کا جائزہ لے گی اور اگر مضمون معیاری ہوا اور ہمارے پاس اسے شائع کرنے کی گنجائش تھی تو اسے شائع کر دیا جائے گا۔’’ثبوت نیوز‘‘ ایسے مضامین شائع کرنے کو ترجیح دیتا ہے جو خاص طور پر صرف (ثبوت نیوز) کے لئے ہی لکھے گئے ہوں اور کسی دوسری جگہ اشاعت کے لئے نہ بھیجے گئے ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بھیجا ہوا مضمون لازمی طور پر شائع کیا جائے۔ ٹیم کسی بھی مضمون کو مسترد یا قبول کر سکتی ہے اور وہ وجوہات بیان کرنے کی پابند نہیں ہے۔ مضمون عموماً دو یا زیادہ سے زیادہ تین دن میں شائع کر دیا جاتا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ مضمون موصول ہوتے ہی جلد از جلد شائع کیا جائے۔ لیکن پہلے سے آئے ہوئے دیگر مضامین اور دستیاب عملے پر کام کے لوڈ وغیرہ جیسی وجوہات کی بنا پر تاخیر ہو سکتی ہے۔

کمپوزنگ

مضمون کمپوز کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ہر لفظ کے بعد ایک سپیس ڈال رہے ہیں۔ ہر جملے کے اختتام پر فل اسٹاپ ضرور ڈالیں۔ ایک سے زیادہ رموز اوقاف استعمال مت کریں، ایک ہی کوما، فل اسٹاپ یا دیگر علامت لکھیں اور ،،، یا۔۔۔۔ یا ؟؟؟ یا !!!! وغیرہ لکھنے سے گریز کریں۔

خاص طور پر’’کی ‘‘اور ’’کے‘‘ کے بعد ایک سپیس دینے کی کوشش کریں۔ آئینگے ، آئینگی ،جائینگے،جائینگی وغیرہ کی بجائے ’آئیں گے ‘ ’آئیں گی ‘ جائیں گے،آئیں گے، لکھنے کی کوشش کریں،لکھا جائے تو بہتر ہے۔ انکی، جسکی، انکو، آپکی ، آپکے ، انکے اور جسکے کی بجائے ان کی، جس کی، ان کو، آپ کی ، آپ کے ، ان کے اور کے لکھنے کی کوشش کریں۔انگریزی الفاظ لکھنے سے گریز فرمائیں۔ اگر انگریزی لفظ بھی ہے تو اسے اردو املا میں لکھنے کو ترجیح دیں۔
سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ مضمون کو ای میل میں ہی لکھ دیں۔ لیکن آپ مضمون کو ان پیج، مائیکروسافٹ ورڈ یا ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں بھیج سکتے ہیں۔

تحریر اور موضوعات

اپنا مضمون بھیجنے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ ضرور پڑھیں۔ کوشش کریں کمپوزنگ کی غلطیاں خود نکال لیں جس تحریر میں کم غلطیاں ہوں، اس پر ایڈیٹر کی کم وقت لگتی ہے، اور وہ جلد شائع ہو سکتی ہے۔
تحریر کی طوالت 700سے 1200 الفاظ کے درمیان ہونی چاہیے۔ بعض صورتوں میں استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ پالیسی کے خلاف ہو، اسے حذف یا تبدیل کرنا اور بات کو واضح کرنے کے لئے متن میں تبدیلی کرنا، کسی بھی ایڈیٹر کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر آپ ایڈیٹر کے اس اختیار سے متفق نہیں ہیں تو، براہ کرم اپنا مضمون کسی اور جگہ شائع کرنے کے لئے بھیجیں، ہم اسے شائع کرنے سے قاصر ہیں۔
مضمون لکھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور مضمون بھیجتے ہوئے آپ اس بات کے بارے میں سوچ لیں کہ آپ کو اس مضمون پر آنے والے اچھے یا برے عوامی ری ایکشن یا قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے خوب سوچ سمجھ کر مضمون لکھیں۔ ’’ثبوت نیوز ‘‘ کی ادارتی ٹیم ایڈیٹنگ کرتے ہوئے حتی المقدور کوشش کرتی ہے کہ مضمون میں موجود ایسا مواد ٹھیک کر دیا جائے جو پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔ مضمون بھیجنے سے پہلے خوب غور کر لیں کیونکہ عام حالات میں مضمون شائع ہونے کے بعد سائٹ سے ہٹایا نہیں جائے گا۔
اگر آپ کسی دوسرے مصنف کے مضمون کا جواب لکھ رہے ہیں، یا حالات حاضرہ پر عمومی تبصرہ کر رہے ہیں تو اس فرد کو نشانہ بنانے کی بجائے اس کے موقف پر بات کریں۔ مضمون میں اگر کسی کی کردار کشی کا پہلو ہو تو اس کے شائع ہونے کا امکان بہت کم ہے۔مضمون میں اگر آپ کسی واقعے، فرد یا جگہ وغیرہ کا ذکر کر رہے ہیں تو پہلے کسی ماخذ سے اپنے بیان کی درستی کا یقین کر لیں۔
’’ثبوت نیوز‘‘ میں ادارتی پالیسی بالکل واضح ہے۔ دائیں اور بائیں کی کوئی قید نہیں۔ مذہبی اور غیر مذہبی نقطہ نظر پر کوئی پابندی نہیں۔ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر کوئی تحریر روکی نہیں جاتی۔ اظہار کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اظہا ر کی آزادی میں بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ صحیح یا غلط ، دلیل سامنے آئے گی تو اس کے رد میں موجود دلیل کو بھی سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ ذہانت پر صحافی کا اجارہ نہیں۔ پڑھنے والا سب سے زیادہ ذہین ہے۔ وہ پڑھے گا۔ سوچے گا اور دلیل کو قبول یا رد کرے گا۔ اگر صحافی دلیل کو روک لے گا تو پڑھنے والے کو معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کرے گا۔ اس میں معمولی سی شرط یہ ہے کہ صحافت میں ناشائستہ لب و لہجہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کو گالی نہیں دی جا سکتی۔ کسی مذہبی ، ثقافتی یا نسلی گروہ کے خلاف اشتعال نہیں پھیلایا جا سکتا۔ نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کسی کو جرم کی ترغیب دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ قانون شکنی کی حمایت نہیں کی جاتی۔ کسی جرم پر اکسانا اظہار کی آزادی میں شامل نہیں ہوتا۔
’’ثبوت نیوز‘‘کو آپ کی تحریریں شائع کر کے خوشی ہو گی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ’’ثبوت نیوز‘‘ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر سکے جہاں پاکستان میں ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کھلے دل و دماغ سے ایک پرامن اور مفید اجتماعی مکالمے کا حصہ بن سکیں۔

’’ثبوت نیوز‘‘ کیلئے لکھنے والوں سے چند گزارشات

’’ثبوت نیوز‘‘آزادی اظہار کے لیے ایک کھلا پلیٹ فارم ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں ادارے کو مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لکھنے والوں کا اعتماد بھی حاصل ہوا ہے اور پڑھنے والوں سے بھی پذیرائی ملی ہے۔ یہاں کچھ لکھنے والے کہنہ مشق ہیں اور کچھ ابھی اپنے تجربے کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔
ہم ہر طرح کے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاہم ہماری صحافت کے موجودہ معیارات کے پیش نظر کچھ نکات کی نشان دہی بہت ضروری ہے۔ کسی لکھنے والے پر ذاتی تنقید نہیں۔ اردو میں لکھنے والے مختلف پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کسی نے مذہبی مدارس میں تعلیم پائی ہے ، کوئی سرکاری تعلیمی اداروں سے فیض یاب ہوا ہے اور کچھ لکھنے والے مغربی طرز کے اداروں سے مستفید ہوئے ہیں۔ ہمارے کچھ لکھنے والوں کا ذہنی رجحان قدامت پسندی کا ہے۔ ہمارے کچھ لکھنے والے جدید رجحانات رکھتے ہیں۔ ہم ان سب کو اپنا سرمایہ سمجھتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے صحافت کے ایک بنیادی منصب کو ختم کر دیا ہے جسے ادارتی چھلنی کہا جاتا تھا۔ صحافت میں ادارتی عملے کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ تحریر کے زبان و بیان کا جائزہ لے۔سوشل میڈیا پر ہم اپنی تحریر براہ راست پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ لکھنے والا ہمیشہ ایک کیفیت اور موقف کے زیر اثر ہوتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ کسی تحریر کو پڑھنے والوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ایک ایسا فرد ضرور دیکھ لے جو متعلقہ کیفیت اور موقف سے بے نیاز ہو۔ یہ مدیر کا منصب ہوتا ہے۔اگر کوئی ادب میں نوبل انعام یافتہ ادیب بھی ہو تو اس کی تحریر کو بھی نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ادب میں مدیر کا ادارہ کبھی مستحکم نہیں ہو سکا۔ صحافت میں ادارتی عملہ موجود ہوتا تھا۔ سوشل میڈیا نے اس کی ضرورت بھی ختم کر دی۔ اب ہم جو چاہتے ہیں، لکھتے ہیں۔ اور جس انداز میں چاہتے ہیں، لکھتے ہیں اور پھر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں کے پرزے اڑا کر رکھ دیے ہیں۔ یہ اچھی صحافت کا نشان نہیں۔
اس سے قطع نظر کہ لکھنے والے کا موقف کیا ہے، یہ تو واضح ہے کہ جس زبان میں لکھا جا رہا ہے گرامر کے اعتبار سے وہ زبان درست لکھنی چاہیے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے غلط تحریر درجہ اعتبار سے گر جاتی ہے۔ مشکل زبان میں لکھنے سے تحریر کا وزن نہیں بڑھتا بلکہ غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ لکھنے والے کا فرض ہے کہ وہ جو لفظ استعمال کرے اس کے معنی اور کیفیت سے پوری طرح آشنا ہو۔ اسی طرح بازاری زبان لکھنے سے پڑھنے والے کو متاثر کرنا غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
صحافی ایک فرد کی حیثیت سے قلم اٹھاتا ہے لیکن اس کی اخلاقی حیثیت اجتماعی ہے۔ چنانچہ صحافت میں ’صیغہ متکلم‘ ایک ناقابل قبول طرز بیان ہے۔ پڑھنے والے کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ صحافی کے والدین کون تھے۔ احباب کون ہیں۔ لکھنے والے کی ذاتی معاشرتی ترجیحات کیا ہیں۔ سیاسی رجحانات کیا ہیں۔ بے شک لکھنے والے کے سیاسی رجحانات بھی ہوتے ہیں۔ معاشرتی میلان بھی ہوتے ہیں لیکن پیشہ ورانہ کام کرتے ہوئے صحافی کی ذات غیر اہم ہو جاتی ہے۔ صحافت میں وہ تحریر کمزور بلکہ ناگوار سمجھی جاتی ہے جس میں بار بار لکھنے والا اپنی ذات کا ذکر کرتا ہے۔اور صیغہ متکلم استعمال کرتا ہے

اپنے مضامین اس ای میل ایڈریس پر بھیجیں۔

dailysaboot6@gmail.com
sabootnews2018@gmail.com