وزیراعلیٰ اعتماد کھوچکے‘ جام کمال وزرات اعلیٰ سے استعفیٰ دیکر تبلیغ پر جائے جام کمال کو جو قائد سمجھتے تھے آج ان کے ساتھیوں نے ان کا قاعدہ پھاڑ دیا ہے‘نواب اسلم رئیسانی

کوئٹہ(ثبوت نیوز) چیف آف سراوان و سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد آگیا ہے جام کمال وزرات اعلیٰ سے استعفیٰ دیکر تبلیغ پر جائے

جام کمال کو جو قائد سمجھتے تھے آج ان کے ساتھیوں نے ان کا قاعدہ پھاڑ دیا ہے بلوچستان کے ساتھ کالے بادل وفاق میں بھی آ گئے، اسپیکرقومی اسمبلی بھی خطرے میں ہے بلوچستان میں ایک اور نئی سیاسی جماعت بن رہی ہے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہو ئے کیا‘ چیف آف ساراوان نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ اس وقت بلوچستان آئینی بحران سے دوچار ہے جب تک آئینی بحرا ن کا خاتمہ نہیں کیا

جاتا اس وقت تک وزیراعلیٰ بلوچستان کے تمام احکامات غیر آئینی اور غیر قانونی ہے تحریک عدم اعتماد کے بعد وزیراعلیٰ جام کمال کو اب جانا چاہئے اور استعفیٰ دیکر تبلیغ پر چلے جائیں اس کے پانی اور کھجور کی ذمہ داری میری ہے

انہوں نے کہاکہ جام کمال کو قائد سمجھنے والے نے آج ان کا قاعدہ پھاڑ دیا اور اب وہ کبھی بھی جام کمال کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ وزیراعلیٰ بلوچستان اپنا اعتماد کھوچکے ہیں جب کسی کے ساتھ اپنے ہی پارٹی کے ارکان نہ ہو تو ان کو اقتدار سے الگ ہونا چاہئے

انہو ں نے کہاکہ جام صاحب خود چکن کھاتے ہے اور ساتھیوں کو بنڈی کھلاتے ہیں ہیں اگر خود چکن کھائیں گے اور ساتھیوں کو بھنڈی کھلائیں گے تو ان کے ساتھی تو ناراض ہوں گے میں اپوزیشن اراکین کے ساتھ ہوں وہ جو فیصلہ کرے گی

میں ان کے ساتھ ہوں کالے بادل وفاق میں بھی آ گئے، اسپیکر نیشنل اسمبلی بھی خطرے میں ہے سنا ہے نئی جماعت بننے جا رہی ہے، نظریہ کیا ہوگا، شمولیت کون کریگا کچھ پتہ نہیں، لوگ یہی ہوں گے ہم تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے کوشاں ہے

جو کامیاب ہوا نظر آ جائیگا اپوزیشن جمہوری عمل کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں ایک سوا ل کے جواب میں نواب اسلم رئیسانی نے کہاکہ اپوزیشن کے ساتھ اکثریت ہے اگر ہم ارکان کی تعداد بتادیں تو صحافی حضرات جا کر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو سب کچھ بتائیں گے

اس لئے اس وقت ہم کچھ بھی اس بارے میں نہیں بتائیں گے اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس حوالے سے خود اعتراف کیا کہ ان کے اپنے پارٹی اور اتحادیو ں کے ساتھ ملکر 24اراکین ہے جبکہ اپوزیشن اور ناراض اراکین کے 23اور16ارکان ساتھ ہے۔