اب بلوچستان میں اگر کوئی شخص ماسک نہیں پہنے گا تو کورونا ٹاسک فورس اس کے ساتھ وہ حرکت کریگا کہ وہ گھر میں بھی ماسک پہنے گا

کوئٹہ(ثبوت نیوز) کورونا ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطاء الرحمن کا کہنا ہے کہ کورونا کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے

ایس او پیز پر سختی سے عمل درآد کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیے کہ پولیس کو چھڑیاں پکڑا دے اور جو ماسک کے بغیر نظر آئے اسے دو ڈنڈے لگائیں۔اس صورتحال میں شہریوں کو احتیاط کرنی چاہئیے اور ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

عوام کورونا صورتحال کو عام نہ سمجھیں اور سختی سے ہدایات پر عمل کریں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے، صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، نیا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے

اور تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔جب کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پندرہ روزہ مکمل لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔لوگ زندہ رہیں گے تو معاشی سرگرمیاں بھی بحال ہو جائیں گی۔

ان خیالات کا اظہار پی ایم اے پنجاب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی کی صدارت میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں دیگر سینئر پروفیسر اور عہدیداران نے شرکت کی۔

عہدیداران کا کہنا تھا کہ پندرہ روزہ مکمل لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ لوگ زندہ رہیں گے تو معاشی سرگرمیاں بھی بحال ہوجائیگی۔کورونا خوفناک حد تک پھیل رہا ہے۔حکومت کو بڑھتے ہوئے مریضوں اور ہلاکتوں کا ادراک نہیں۔حکومتی اعلانات ناکافی اور ا?نے والے دنوں میں مزید ہلاکتوں کا باعث بنیں گے۔

سرکاری ٹرانسپورٹ کی بندش اور غیر سرکاری ٹرانسپورٹ کو اجازت دینا مضحکہ خیز فیصلہ ہے۔وسری جانب پاکستان میں عالمی وباء کورونا وائرس نے شدت اختیار کرلی اور ملک میں محض ایک دن میں مزید 100 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 4 ہزار84 نئے کیسز بھی سامنے آئے جس کے ساتھ ہی مثبت کیسز کی شرح 11 فیصد سے بڑھ گئی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کی طرف سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 14 ہزار 356 تک پہنچ چکی ہے جب کہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 6 لاکھ63 ہزار200ہو گئی، جن میں سے اس وقت فعال کیسز کی تعداد 48 ہزار566 ہے۔