بلوچستان میں دہشتگرد تنظیمیں دوبارہ منظم ہو رہے ہیں‘ضیا ء لانگو

کوئٹہ(ثبوت نیوز) صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا ء لانگو نے کہا ہے کہ گزشتہ 2 سال سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہیں لیکن ہم مکمل دہشتگری سے پاک قرار نہیں دے سکتے مکران ڈوڑن کو میں زیادہ کارروائیاں سی پیک کو ناکام کرنے کی کوشش ہے کئی بار افغانستان کے ساتھ باڈر پار دہشتگردی بارے بات کی لیکن کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے

بھارتے سالانہ 5سو ملین ڈالر بلوچستان میں خرچ کیا جاتا ہے اس لئے دہشتگرد دوبارہ منظم ہوتے ہیں‘یہ بات انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز مکران ڈویژن کے علا قے تربت میں جو دلخراش واقعہ رونماء ہو ا جس میں 7ایف سی اور 7سیکورٹی گارڈ شہید ہو چکے تھے

واقعہ انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت ہیں جو صوبائی حکومت نے بروقت نوٹس لیکر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہیں اور کامیابی بھی ملیں جلد ان دہشتگردوں کو بے نقاب کرینگے بلوچستان ایک پر امن اور خوشحال صوبہ ہیں یہاں ہر صورت میں امن کو قائم اور دہشتگردوں کے خلاف کارورائی جاری رکھیں گے

انہوں نے کہا کہ تربت میں ہمارے انفارمیشن کے مطابق ایک اور واقعہ رونماء ہو ا ہے جس کی تصدیق نہیں ہوئی ہیں ہم معلومات کو اکٹھے کر رہے ہیں گزشتہ روز واقع کی زمہ داری براس نامی دہشتگرد تنظیم نے قبول کی ہے گزشتہ روز کے واقعے کے بعد سیکورٹی اہلکار دہشتگرد کے تعاقب میں ہے ایک ہی دشمن ہے ایک ہے ماسٹر مائنڈ ہے ایک ہی سہولت جار ہے بلوچستان میں 7 سو کلو میٹر کا سرحد لگتا ہے اس لیے ایک ساتھ آپریشن نہیں ہوسکتا ہے

دہشتگرد جہاں بھی کوئی کارروائی کرینگے ہم ان وہیں آپریشن کرینگے انہوں نے کہا کہ شتہ 2 سال سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہیں لیکن ہم مکمل دہشتگری سے پاک قرار نہیں دے سکتے کئی بار افغانستان کے ساتھ باڈر پار دہشتگردی بارے بات کی لیکن کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے

بھارت سالانہ 5سو ملین ڈالر بلوچستان میں خرچ کیا جاتا ہے اس لئے دہشتگرد دوبارہ منظم ہوتے ہیں ہمیں فخر ہے کہ ہمارے طاقتور دشمن ملک کے کوششوں کے باوجود ہم نے دہشتگردی کو کنٹرول کیا ہے اور اس حوالے سے ہمارے سیکورٹی اداروں کے اہلکار قربانیاں دیکر شہادتیں دے رہے ہیں مکران ڈوڑن کو میں زیادہ کارروائیاں سی پیک کو ناکام کرنے کی کوشش ہے۔