بلوچستان اسمبلی اجلاس‘ حکومتی و اپوزیشن ارکان یک زبان‘ مسائل اجاگر اور قراردو ں پر عملدرآمد کرنے کیلئے سپیکرسے مطالبہ ہمارے سفارشات وفاقی حکومت کو آفیشل طریقے سے بھیج کر تاکہ بلوچستان کے مسائل حل ہوسکیں

کوئٹہ(ثبوت نیوز) بلوچستان صوبائی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کے رو ز قائمقام سپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی صدارت میں ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان یک زبان ہو کر بلوچستان کے مسائل اجاگر کرنے اور قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کیلئے سپیکر سے مطالبہ کردیا

کہ ہمارے سفارشات وفاقی حکومت کو آفیشل طریقے سے بھیج کر تاکہ ہمارے مسائل حل اور قراردادوں پر عملدرآمد ہوسکیں‘ اجلاس کے دوران پی ٹی وی بولان میں ہزارگی زبانوں پر پروگرام شروع اور پی ٹی وی بولان کے فنڈز میں اضافہ کرنے کی قرارداد منظور کرلی گئی

قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی قادر نائل نے کہاکہ بلوچستان میں قومی نشریاتی ادارہ پی ٹی وی بولان کے ذریعے بلوچستان کے قومی زبانوں جن میں بلوچی‘براہوئی اورپشتوکے مختلف نوعیت کے پروگرام نشر کیے جارہے ہیں

بلوچستان سے مقامی زبانوں کی فروغ اور ترویج کا انتہائی اہم مثبت اور موثر ذریعہ ثابت ہورہا ہے بدقسمتی سے بلوچستان میں آباد ہزارہ قوم کی زبان ہزارگی

کی قومی نشریاتی ادارہ پی ٹی وی میں عدم نمائندگی اور سرکار ی سرپرستی نہ ہونے کے باعث ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے عوا م اور خاص کرآڑٹسسٹ‘ڈرامہ نگار‘ گلوکاراور شاعر متاثرہورہی ہے لہٰذا ہم صوبائی حکومت سے سفارش کرتے ہیں

کہ وہ وفاقی حکومت وزیر اطلاعات و نشریات سے رجوع کریں اور پی ٹی وی بولان میں ہزارگی زبان کے پروگرام شروع کیا جائے قراردا دکی حمایت کرتے ہوئے صوبائی وزیر بی اینڈ آر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہاکہ ہزارگی زبان کی ہم حمایت کرتے ہیں

اور ساتھ میں بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں کھیترانی اور اسی طرح سبی نصیرآباد اور دیگر علاقوں میں جاموٹ قوم ہے جو سندھی بولتے ہیں ان کو بھی موقع دیا جائے

رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے قراردا د کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں قومی زبانوں کو پروموٹ کرنے کیلئے واحد پی ٹی وی بولان ہے جس کے فنڈز پہلے کروڑوں روپے میں تھا اب کم کرکے صرف 58لاکھ روپے رکھ لیے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے پوری دنیا میں کامیاب ممالک نے جو کامیابی حاصل کی

انہوں نے اپنی زبانوں پر مکمل توجہ دی ہے لیکن ہمارے ایک طرف زبانوں کو توجہ نہیں دیتے جب پی ٹی وی بولان آگئی تو اس کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی ہے ہم اس ایوان کے ذریعے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ بلوچستان کے اقوام کا ایک اہم مسئلہ ہے

ا س پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور پی ٹی وی بولان کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہزارگی زبان پر پروگرام شروع کیا جائے

جبکہ دیگر زبانوں بلوچی‘پشتو اور براہوی بولنے والوں کو مکمل توجہ دی جائے اور ان کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے جس پر ایوان نے قرارداد کی منظوری دیدی اسی طرح رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی وی بولان کے نشریات کے آغاز سے بلوچستان کی ثقافت‘زبان‘تہذیب و تمدن کی ترویج ہوئی ہے

اور پی ٹی وی بولان کے ذریعے دنیا کو بلوچستان کے بارے میں اہم معلومات فراہم ہوئی ہے پی ٹی وی بولان کے آغاز پر اس کا سالانہ بجٹ تین کروڑ روپے تھے جس سے بہترین ثقافتی‘سیاحتی پروگرام ڈرامے اور موسیقی کے پروگرام نشر ہوتے تھے جو مقامی فنکاروں اور گل کاروں کے روزگار کا بہترین

ذریعہ تھا مگر کچھ عرصے سے پی ٹی وی بولان کا سالانہ بجٹ صرف58لاکھ روپے کردیاگیا ہے۔جس کی وجہ سے پی ٹی وی بولان شدید مالی بحران کی وجہ سے پرانے ریکارڈ شدہ پروگرام نشر کررہی ہے صوبائی حکومت سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے

اور پی ٹی وی بولان کے بجٹ میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے ساتھ میں دیگر نجی ٹی وی چینلز کے بیورو آفس جو ختم کیے گئے ان کو دوبارہ قائم کیا جائے‘رکن صوبائی اسمبلی یونس زہری نے کہا کہ خضدار میں کھلاڑی چندہ جمع کرکے ٹورنامنٹ منعقد کراتے ہیں

اسی طرح انٹرنیشنل کھلاڑی بلوچستان میں مزدوری کرنے پر مجبور ہے انٹرنیشنل کھلاڑی کو حکومت کوئی پوسٹ دے دیں وزیر کھیل بتائے بلوچستان میں پوسٹوں کو کیس بنیاد پر دیا گیا

صوبائی وزیر کھیل عبدالخالق ہزارہ نے کہاکہ خضدار میں انٹر نیشنل کھلاڑی کی مزدوری کرنا سپورٹس ڈپارٹمنٹ کے لئے شرم کی بات ہے پوسٹوں کے لئے اپنے ڈپارٹمنٹ سے سوال کرو گا کس بنیاد پر دیا ہے

خالق ہزارہ اپنے ڈپارٹمنٹ کی غلطی مانتے ہے یہ بڑی بات ہے میرے موجودگی میں اگر ایسا غلط ہوا ہے پوسٹوں پر گھپلہ ہوا تو میں کارروائی کرو گاجس پر قائمقام سپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے کہاکہ ا گر آپ کاروائی نہیں کر سکتے ہے تو ہمیں بتائے اسمبلی افسران کے خلاف کاروائی کرے گی۔