حکومت پاکستان نے پیاز پر پابندی کیوں لگائی تھی؟ آج ایسا فیصلہ کیا کہ کسان خوشی نڈھال ہو گئے

کراچی(ثبوت نیوز) سندھ حکومت نے ٹماٹر کی درآمد پر پابندی اور پیاز کی برآمد کے اقدامات کے لیے وفاق کو خط لکھ دیا، صوبائی وزیر زراعت کا کہنا ہے کہ ٹماٹر درآمد اور پیاز برآمد نہ ہونے سے قیمتوں میں کمی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہو نے وفاق کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ پیاز اور ٹماٹر کی فصلوں کی پیداوار میں سندھ پہلے نمبر پر ہے، صوبے بھر میں پیاز اور ٹماٹر کی فصلوں کی کٹائی شروع ہوگئی۔

وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ سندھ میں اس سال پیاز اور ٹماٹر کی بہت اچھی پیداوار متوقع ہے، ٹماٹر درآمد اور پیاز برآمد نہ ہونے سے قیمتوں میں کمی ہوئی۔ کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت وصول نہیں کر رہے ہیں۔ کسان ٹماٹر درآمد پر پابندی کے لیے سندھ میں احتجاج بھی کر چکے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ گزشتہ سال 20-2019 میں 57 ہزار 900 ہیکٹر رقبے پر پیاز کی کاشت ہوئی تھی اور 7 لاکھ 82 ہزار 140 میٹرک ٹن پیاز کی پیداوار ہوئی، رواں سال 21-2020 میں سندھ میں 58 ہزار 200 ہیکٹر پر پیاز کی فصل کاشت کی گئی۔

اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال 20-2019 کے دوران 22 ہزار 542 ہیکٹر پر ٹماٹر کی کاشت کی گئی اور 1 لاکھ 64 ہزار 658 میٹرک ٹن ٹماٹر پیدا ہوا۔ رواں سال 2020-21 ٹماٹر کی فصل 30 ہزار ہیکٹر پر کاشت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی ناقص پالیسی سے کسانوں کو فصل کی لاگت نہیں مل رہی، ٹماٹر کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔وزیر زراعت کا مزید کہنا تھا کہ وزارت تجارت اور فوڈ سیکیورٹی پیاز ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے۔