شیرانی کے جنگل میں آگ 14ویں روز بھی قابو نہ پانا سمجھ سے بالاتر ہے‘متعلق حکومتوں نے کوئی کارروائی نہیں کی سیاسی جماعتیں

کوئٹہ(ثبوت نیوز) بلوچستا ن کے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ضلع شیرانی کے جنگل میں آگ 14ویں روز بھی قابو نہ پانا سمجھ سے بالاتر ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملکر اس قدرتی جنگلات کو بچانے کے لئے اقدامات کریں

اگر یہاں پر مشینری دستیاب نہیں ہے تو ہمسایہ ممالک سے رابطہ کریں‘ان خیالات کا اظہار کے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماء شیخ جعفرخان مندوخیل‘ سنیئر نائب امیر مولانا غلام سرور موسیٰ خیل‘ جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی‘

جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی‘عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری سردار رشید ناصرنے جنگل سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے کہی

انہوں نے کوہ سلیمان کے جنگل میں آگ اور اس سے ہزاروں سال تاریخی جنگل کے درختوں کی تباہی حیوانات کی بربادی اور انسانی آبادی کو خطرہ پر وفاقی اور دو صوبائی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایشیا کے سب سے بڑے جنگل میں گزشتہ کئی دنوں سے لگی آگ کے متعلق حکومتوں نے کوئی کارروائی نہیں کی

اور حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے ایشیاء کا ہزاروں سالہ تاریخی جنگل راک کا ڈھیر بن گیا ہے اتنے بڑے آگ پر قابو پانے کے لئے پانچ دن بعد ایک ہیلی کاپٹر کا موقع جانا اور دو صوبائی حکومتوں کا ایک دوسرے پر الزامات لگانا لمحہ فکریہ ہے

یہاں پر ہمارے وزیراعلیٰ اور وزراء ہیلی کاپٹروں کے اپنے ذاتی خواہشات کیلئے استعمال کرتے ہیں لیکن جب ایک پورا وطن تباہی و بربادی سے دوچار ہورہاتھا تو ہمارے صوبائی اور مرکزی حکومتیں خاموش تماشائی بن گئے

انہوں نے کہاکہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر دنیا کے دیگر ممالک سے بھی آگ پر قابو پانے کے لئے مدد مانگ سکتی تھی وہ بھی حکومت نہیں کیا جو قابل گرفت عمل ہے انہوں نے کہاکہ اتنی بری بربادی کے بعد بھی آج تک حکومتوں نے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جو باعث تشویش ہے

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں تاکہ کم سے کم نقصان ہوسکے۔