کوئٹہ/اسلام آباد(نیوزڈیسک)مارچ 2027 میں سینیٹ آف پاکستان سے ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے متعدد سینیٹرز بھی شامل ہیں
جن میں خرم ذیشان، منظور کاکڑ، ثمینہ ممتاز زہری اور دیگر سینیٹرز شامل ہیں۔دستیاب تفصیلات کے مطابق مارچ 2027 میں مجموعی طور پر 48 سینیٹرز اپنی چھ سالہ مدت مکمل کریں گے۔
ان میں پاکستان تحریک انصاف کے 16، پاکستان پیپلزپارٹی کے 11، مسلم لیگ ن کے 7، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4، جمعیت علمائے اسلام کے 3، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے 2، مسلم لیگ ق کے ایک جبکہ 3 آزاد سینیٹرز شامل ہیں۔
مدت مکمل کرنے والے سینیٹرز میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، رانا ثنا اللہ، عابد شیر علی، افنان اللہ خان، سعدیہ عباسی، شیری رحمان، فاروق ایچ نائیک، پلوشہ خان، وقار مہدی، عبدالقادر، بیرسٹر علی ظفر، عون عباس بپی
زرقا سہروردی تیمور، فلک ناز چترالی، فیصل سلیم رحمان، مشال یوسفزئی، ہمایوں مہمند، محسن عزیز، سیف اللہ ابڑو، سیف اللہ نیازی، زیشان خانزادہ، خرم ذیشان، مولانا عطا الرحمن، کامران مرتضی، کامل علی آغا، فیصل سبزواری، منظور کاکڑ، ثمینہ ممتاز زہری، حافظ عبدالکریم اور نعیمہ احسان سمیت دیگر سینیٹرز شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مدت مکمل کرنے والے سینیٹرز میں حکومتی بنچز کے 27 جبکہ اپوزیشن بنچز کے 21 ارکان شامل ہوں گے۔الیکشن کمیشن آئندہ سال سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات کرائے گا، جس کے بعد نئے سینیٹرز ایوان کا حصہ بنیں گے۔
ذرائع کے مطابق نئے سینیٹرز کے انتخاب کے بعد سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نشستوں پر بھی انتخاب ہوگا، جس کے نتیجے میں ایوان بالا کی قیادت میں بھی تبدیلی متوقع ہے
بلوچستان کے حوالے سے مارچ 2027 کے سینیٹ انتخابات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی، کیونکہ صوبے سے تعلق رکھنے والے متعدد سینیٹرز کی مدت مکمل ہونے کے بعد نئی نشستوں پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔
گورنر راج کا نفاذ آئین پاکستان کا قانونی حصہ ہے، اسے غیر آئینی قرار دینا درست نہیں ہے جہاں صوبائی حکومتیں ناکام ہوں اور عدم تعاون کریں وہاں آئینی تقاضوں کے تحت گورنر راج پر غور ناگزیر ہو جاتا ہے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی، کیپٹن (ر)عبدالخالق خان اچکزئیڈیرہ بگٹی: فراری کمانڈر نور خان بگٹی ساتھیوں سمیت وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے سرنڈر، قومی دھارے میں شامل وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کھلی کچہری کے دوران فراری کمانڈر نور خان بگٹی کی جانب سے سرنڈر کرنے کی تقریبخیبرپختونخوا کے 8 قبائلی اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگائی جائے گینیشنل ہائی وے پر مسلح افراد کی تین مقامات پر فائرنگ و لوٹ مار، ایس ایس پی کچھی کی گاڑی پر بھی حملہ مسافر کوچز پر فائرنگ اور بدامنی کے خلاف ٹرانسپورٹروں کا ناڑی بینک کے مقام پر قومی شاہراہ بلاک کر کے دھرنابارکھان کے علاقے راڑہ شم سے ملنے والے افراد کے نام اور ابتدائی کوائف جاری کر دیے گئے کچھ افراد کے شناختی کارڈز کا تعلق کوہلو سے ہے جبکہ دیگر کی باضابطہ تصدیق جاری ہے، انتظامیہبلوچستان حکومت اور عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں وزیراعلی کے پی محاذ آرائی کے بجائے نوجوانوں کی ترقی اور روشن مستقبل پر توجہ دیں،صوبائی وزیر داخلہ، میر ضیا اللہ لانگوبلوچستان کے مختلف اضلاع میں فائرنگ کے واقعات اور تشدد کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے اوستہ محمد، دالبندین اور اورناچ میں فائرنگ سے ہلاکتیں، قلات سے تشدد زدہ لاش بھی برآمد، پولیسبلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک شرافت کو کمزوری نہ سمجھا جائے، جے یو آئی بلوچستان اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی صوبے میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور جرائم عروج پر ہیں، حکومت ذمہ داری پوری کرے، صوبائی اسمبلی کے اراکین اور عاملہ سے گفتگو بلوچستان میڈیا فورم شعبہ خواتین کا اعلان صدف غوری صدر، فائزہ صدیقی جنرل سیکرٹری نرگس نہاں سیکرٹری اطلاعات ہونگی، مرکزی اعلامیہ کوئٹہ، ایڈیشنل سیشن جج کے مبینہ لاپتہ ہونے کا واقعہ، بلوچستان بار کونسل کا صوبے بھر میں عدالتی امور کے بائیکاٹ کا اعلان واقعہ کی فوری تحقیقات کرکے جج کو بازیاب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، بار کونسل کا مطالبہحکومت گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غورکررہی ہے: خواجہ آصف اورماڑہ، پولیس اور پاک آرمی کی مشترکہ کارروائی، غیر قانونی طور پر ایران جانے والے ڈرائیور سمیت 4 ملزمان گرفتار ڈی آئی جی مکران اور ایس ایس پی گوادر کی ہدایات پر اسنیپ چیکنگ، ملزمان کو مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا *وزیراعلیٰ نے اتنی معافیاں مانگیں کہ اب معافیاں بھی بدنام ہوگئیں، مولانا عبد الواسعکوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج اسد اللہ رئیسانی لاپتہ ہو گئے دوسری جانب واقعے کے حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی‘خاندانی زرائع

