کوئٹہ: تین روزہ پشتون قومی جرگہ اختتام پذیر، محمود خان اچکزئی کا اختتامی سیشن سے خطاب

کوئٹہ(نیوزڈیسک)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر صدارت کوئٹہ میں ہونےو الے تین روزہ قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے

کوئٹہ میں تین روزہ پشتون قومی جرگہ اختتام پذیر ہوگیا۔ اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون قوم کے مسائل کا حل کسی ایک جماعت یا شخص کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے اتحاد اور اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ اجتماع کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری پشتون قوم کی بقا اور مستقبل کا نمائندہ جرگہ ہے۔ پاکستان سب اقوام کا مشترکہ ملک ہے، یہاں کوئی آقا اور غلام نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے کسی قوم کو خاموش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے حقوق کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ پشتون دہشت گرد نہیں بلکہ امن پسند، مہمان نواز اور انسان دوست قوم ہیں، پشتون سرزمین کو پراکسی جنگوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے لیے استعمال کرنا بند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا کی وارداتوں نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں، ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لیے سویلین اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کے بحرانوں کا حل آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی اور ووٹ کے احترام میں ہے۔ تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر فرائض انجام دیں۔ غیر نمائندہ انتظامات اور انتخابی نتائج میں مداخلت سے ملک میں سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیے بغیر نہ معیشت مستحکم ہوگی اور نہ ہی شہریوں کا اعتماد بحال ہوگا۔

پشتون علاقوں کے قدرتی وسائل سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیتھیم، سونے، تانبے اور کوئلے سمیت قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی عوام کا ہے۔ مقامی آبادی کی مرضی کے بغیر قدرتی وسائل کی الاٹمنٹ یا معاہدے قبول نہیں کیے جائیں گے۔ ہمارے پہاڑ معدنیات سے مالا مال ہیں مگر نوجوان بیرون ملک مزدوری پر مجبور ہیں۔

افغانستان سے متعلق محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کا امن پورے خطے، بالخصوص پاکستان اور پشتون علاقوں کے امن سے جڑا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو باہمی احترام اور عدم مداخلت کی بنیاد پر اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ سرحد کے دونوں اطراف خاندانی اور معاشی روابط کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرکے قانونی تجارت کو سہولت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پشتونوں کو دوسروں سے شکایت کرنے کے ساتھ اپنی داخلی کمزوریوں اور اختلافات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔

محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ جرگے کی سفارشات صرف تقریروں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ان پر عملدرآمد کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ اختتامی سیشن میں انہوں نے جرگے کی قراردادیں اور فیصلے شرکاء کے سامنے پیش کیے، جن کی متفقہ تائید حاصل کی گئی۔