کوئٹہ(نیوزڈیسک) ڈی آئی جی بلوچستان عمران شوکت نے کہا ہے کہ چار مئی کو کوئٹہ میں ایک واقعہ پیش آیا فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو واقعے کی تحقیقات کی روشنی میں تینوں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تینوں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا
پولیس اہلکاروں کے رشوت لینے کے واقعے کی بھی تحقیقات کی تین پولیس اہلکاروں پر مقدمات بھی کئے گئے جن کے کیس چل رہے ہیں پولیس کے ناکے پر اگر پولیس روکے تو روک جائیں کوئٹہ شہر کے عوام سے اپیل ہے کہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اگر پولیس تعاون نہیں کر نا چاہتی ہیں
تو پولیس ویب سائٹ کے آن لائن فورم اور 15 پر کال کر کے اپنی شکایت درج کرائی جائے 5 سالہ بچہ کو باعذت بازیاب کر کے ملوث خاتون کو بھی گرفتار کر لی گئی ایگل سکواڈ کے حوالے سے بہت سی شکایات سامنے آرہی ہے ان کے خلاف اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے پیش کریں ورنہ پولیس اپنی طرف سے بھی کارروائی کرینگے‘
یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں ایس ایس پی عبدالستار،ایس ایس غفور حسین ور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈی آئی کوئٹہ نے کہا ہے کہ 4 مئی کو پودگلی چوک کے قریب مدد گار موبائل ہزارہ ٹاؤن نے شک کی بنیاد پر ایک گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا نہ رکنے پر پولیس نے فائرنگ کر کے ایک شخص جاں بحق ہو گئے جن کی شناخت سفیر احمد ولد طاہر نصیر سکنہ سمنگلی روڈ کے نام سے ہوئی واقعہ کے خلاف ایک صاف وشفاف انکوائری عمل میں لائی گئی
جس کی روشتی میں پولیس ملازمان اے ایس آئی راز محمد کانسٹیبل دلاور خان اور ڈرائیور عدنان ملزمان قرار دئے گئے اور ان کے خلاف سریاب تھانہ میں مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا جبکہ دوسری واقعہ جو یکم مئی کو ہوا اس پر بھی ڈی آئی جی کو شکایت موصول ہوئی ایگل سکواڈ سٹی کے ملزمان نے افتاب احمد نامی نوجوان سے رشوت طلب کی گئی نہ دینے پر اس نے مقتول پر فائرنگ کی گئی
اور اس کو بھی شہید کیا گیا جس پر ہم نے انکوائری کمیٹی بنائی گئی اور تینوں پولیس ملزمان قصوار ٹھہرائے جس کے خلاف بھی مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لئے گئے انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کے رویے کیخلاف آپ کو مسلہ ہے تو شکایت درج کروائیں پولیس اگر رشوت لے یا تنگ کرے اس کی وڈیو بنا کر بھیجیں پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں دیکر عوام کی حفاظت کیلئے ہوتی ہے 5 سالہ بچہ مزمل اغواء ہوا تھا باہر ملک سے ان کے اغواء برائے تاوان کا مطالبہ کیا گیا
ہم نے فوری طور پر کاروائی کرکے ایک خاتون کو گرفتار کیا،اور بچے کو بازیاب کیاگزشتہ ماہ کوئٹہ میں 23 افراد قتل ہوئے 23 میں سے 21 افراد کا قتل ذاتی دشمنی پر مبنی ہے تھریٹس موجود ہیں سیکورٹی کے سخت اقدامات کررہے ہیں گزشتہ ماہ سے اب تک 150 تھریٹس جاری ہوئے دہشتگرد اپنے طریقے بدلتے ہیں پولیس اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر بد عنوانی اور اختیارات کی ناجائز استعمال میں عام شہری وہو یاپولیس ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرینگے
اس سلسلے میں عوام پولیس کے ساتھ تعاون کریں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں بد فعلی پھیلانے اور منشیات فروش آڈے اور لوگوں کے خلاف بھر پور کارروئی عمل میں لائی جائے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گزشتہ ماہ کوئٹہ میں 23 افراد قتل ہوئے جن میں 21 افراد کا قتل ذاتی دشمنی پر مبنی ہے‘ تھریٹس موجود ہیں سیکورٹی کے سخت اقدامات کررہے ہیں گزشتہ ماہ سے اب تک 150 تھریٹس جاری ہوئے دہشتگرد اپنے طریقے بدلتے ہیں‘ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت