بلوچستان اسمبلی اجلاس‘قانون سازی، وقفہ سوالات اور حالیہ بارشوں سے نقصانات پر بحث اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کو قانونی تجارت کی طرف لائیں گے، وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی کا ایوان میں خطاب

کوئٹہ(نیوزڈیسک)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کواسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، جس کے ایجنڈے میں قانون سازی اور وقفہ سوالات شامل تھے۔اجلاس کے آغاز میں ایوان میں مختلف مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی

جن میں شاہدہ روف کے سسر، نعیم بازئی کے والد اور نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی شامل تھے۔اجلاس کے دوران ایک دلچسپ موقع اس وقت پیش آیا جب اسپیکر نے رکن اسمبلی زابد علی ریکی سے سوال کیا کہ وہ اسمبلی میں اونٹ پر آئے یا گاڑی میں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ان کا حلقہ بہت وسیع ہے اور وہ وہاں گئے تھے، اگر اجلاس چھ ماہ بعد ہوتا تو وہ اونٹ پر آتے۔وقفہ سوالات کے دوران پولیس حوالات میں ایک شہری کی ہلاکت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر آغا عمر احمد عمرزئی نے تحقیقات کا مطالبہ کیا

اس پر وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ واقعے کی انکوائری جاری ہے اور متعلقہ شخص کا کرمنل ریکارڈ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں کسی کرمنل کے لیے فاتحہ خوانی نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعلی نے ایران سے ملحقہ اضلاع کینوجوانوں کے لیے حکومتی پروگرامز پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے نوجوانوں کو اسمگلنگ سے ہٹا کر قانونی تجارت کی طرف لانے کے لیے بی آر ایس پی کے تحت تربیتی پروگرام شروع کیے گئے ہیں

جو ابتدائی طور پر محدود پیمانے پر ہوں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد مستفید ہو سکیں۔قانون سازی کے حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے بلوچستان مائنز اینڈ سیفٹی مسودہ قانون 2026 پیش کیا، جسے ایوان نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ اسی طرح بلوچستان وٹنس پروٹیکشن ترمیمی مسودہ قانون 2026 بھی پیش کیا گیا، جسے مزید غور کے لیے کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔اجلاس میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا

رکن اسمبلی اسد بلوچ نے متاثرہ اضلاع کے زمینداروں کے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا، جبکہ زمرک خان اچکزئی نے متاثرہ علاقوں کا فوری سروے کرانے پر زور دیا۔رکن صوبائی اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے نوجوانوں کے مسائل پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی تو مایوسی بڑھے گی

انہوں نے پاکستان کرکٹ میں بلوچستان کے نوجوانوں کو نظر انداز کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ سلیکشن میں شفافیت ہونی چاہیے اور چیئرمین کا تعلق کھیل سے ہونا ضروری ہے۔سابق وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پبلک سروس کمیشن کا بل جلد ایوان میں لانے کا مطالبہ کیا تاکہ نوجوانوں کا وقت اور وسائل ضائع نہ ہوں۔ انہوں نے نوشکی میں سیکیورٹی خدشات کے باعث بند بینکوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور اسٹیٹ بینک سے انہیں کھلوانے کا مطالبہ کیا۔رکن اسمبلی اصغر ترین نے پشین میں امن و امان اور پانی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات کو خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے ڈیمز کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں کا پانی ضائع ہو گیا کیونکہ پہلے سے بنائے گئے ڈیمز متاثر ہو چکے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر اسپیکر نیکارروائی 10 اپریل سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دی۔