تاجرتنظیموں کی یقین دہانی پر تجارتی مارکیٹس رات8بجے جبکہ شادی ہالز 11بجے بند کئے جائیں گے‘ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ایرانی پیٹرول کو قانونی طور پر اجازت دی اور نہ حکومت کی جانب سے ریٹ مقرر کیاگیا ہے تاہم اضافہ ریٹ وصول کرنے والوں کے خلاف ضرور کارروائی کی جائے گی‘ مہراللہ بادینی

کوئٹہ(اے این این) ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا ہے کہ تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیکر صوبے کی عظیم تر مفادات اور موجودہ صورتحال کے نمٹنے کے لیے تجارتی مارکیٹس رات8بجے جبکہ شادی ہالز 11بجے بند کئے جائیں گے ایمرجنسی کی صورت میں فارماسسٹس کو استثنیٰ حاصل ہوگا

ایرانی پیٹرول کو قانونی طور پر اجازت دی اور نہ حکومت کی جانب سے ریٹ مقرر کیاگیا ہے تاہم اضافہ ریٹ وصول کرنے والوں کے خلاف ضرور کارروائی کی جائے گی حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی تاجر تنظیمیں موجودہ صورتحال اور حکومتی مجبوریو ں کو مدنظر رکھ کر انتظامیہ کے ساتھ تعاون کررہی ہے اور حکومت کی جانب سے جو وقت دیا ہے اس پر مکمل عملدرآمد کریں گے‘

یہ بات انہوں نے مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ‘انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا ودیگر کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد انور کاکڑ بھی موجود تھے‘ ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہاکہ کوئٹہ میں پرامن طور پر ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کے لیے آج تاجر تنظیموں کا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقا ت کروائی اور ملاقات کے دوران یہ فیصلہ کیاگیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ رات 8 بجے مارکیٹں بند ہونگی تاجروں نے حکومت بلوچستان کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے

مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز رات 11 بجے بند کئے جائیں گے ایران پیٹرول کو لیگل نہیں کیا گیا منی پیٹرول پمپس کی نگرانی کی جاری ہے عوام کو کسی صورت مافیا کے ہاتھ میں نہیں چھوڑیں گے کرایوں میں اضافہ کے حوالے سے شکایت موصول ہورہی ہیں ہمیں عوام اور تاجر دونوں کا خیال کرنا ہے انہوں نے کہاکہ ہم تاجروں کو کسی صورت مایوس نہیں کریں گے بلکہ ان کے مسائل ہر فورم پر حل کرنے کی کوشش کریں گے

کیونکہ اب ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا حکومت‘ملک‘صوبے اور عوام کی مجبوری ہے جس کی وجہ سے دکانیں 8بجے اور شادی ہالز11بجے بند کیے جائیں گے اس سلسلے میں تمام تاجر برداری سے اپیل ہے کہ وہ حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائی جائے کیونکہ یہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مجبوری طور پر نافذ کیا جارہا ہے تاجروں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ شام8بجے دکانیں اور 11بجے شادی ہالز بند کریں گے خلاف کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا

اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ اور انجمن تاجران بلوچسان کے صدر رحیم آغا نے تاجروں سے اپیل ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں ضلعی انتظامیہ سے مارکیٹیں بند کرنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات ہوئی حکومت نے مجبوراً یہ فیصلہ کیا ہے تاجر برادری حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں ملکی مفاد کی خاطر ہم قربانی دینے کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہاکہ ہم حکومت بلوچستان کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں حکومت کے فیصلے کی ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭