بلوچستان حکومت کا بڑا ریلیف پیکج، عوام اور کسانوں کو سبسڈی دینے کا اعلان کوئٹہ و تربت میں گرین بس سروس مفت، کوئٹہ میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کفایت شعاری مہم، سرکاری اخراجات میں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کا اعلان

کوئٹہ(ویب ڈیسک)وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے موجودہ معاشی صورتحال، مہنگائی اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں متعدد اہم فیصلوں اور ریلیف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک میں جاری جنگ کے اثرات بلوچستان سمیت پورے ملک پر پڑ رہے ہیں

جس کے باعث حکومت کو غیر معمولی اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں وزیراعلی بلوچستان نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف شعبوں میں سبسڈی فراہم کرے گی، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے کسانوں کو پیٹرول اور ڈیزل پر خصوصی سبسڈی دی جائے گی

جبکہ تھریشر مشینوں کے استعمال پر بھی سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ زرعی شعبہ متاثر نہ ہو۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ کوئٹہ اور تربت میں گرین بس سروس کو عارضی طور پر مفت کر دیا جائے گا تاکہ شہریوں کو سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومت نے 15 دن کے لیے گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس بھی معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر سخت مانیٹرنگ کی جائے گی، جس کے لیے ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں

انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی طور پر قیمتیں بڑھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ مشاورت کے بعد پیر سے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کی جائیں گی، جبکہ شادی ہالز اور ہوٹلز کو رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ وزیراعلی نے واضح کیا کہ یہ اقدام لاک ڈان نہیں بلکہ توانائی بچانے اور اخراجات کم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے

ان خیالات کااظہارانہوں نے پریس کانفرنس میں انہوں نے کفایت شعاری مہم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک صوبائی حکومت ڈیڑھ ارب روپے کی بچت کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلی سیکرٹریٹ اور دیگر محکموں میں اسٹاف کی تعداد کم کی گئی ہے، جبکہ 400 ملازمین کو سی ایم ہاس سے واپس ایس اینڈ جی اے ڈی بھیج دیا گیا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں

اور دفتری اوقات کے بعد ان کے استعمال پر نظر رکھی جائے گی یو این اے کے۔مطابق نہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کوئی سرکاری گاڑی دفتری اوقات کے بعد بازاروں میں نظر آئے تو اس کی ویڈیو بنا کر متعلقہ حکام کو ارسال کریں تاکہ کارروائی کی جا سکے وزیراعلی نے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی سیکرٹریٹ کی پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کو مرحلہ وار نیلام کر کے ان کی جگہ الیکٹرک گاڑیاں خریدی جائیں گی

انہوں نے کہا کہ بتدریج دیگر سرکاری محکموں میں بھی ایمرجنسی سروسز کے علاوہ گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں سے تبدیل کیا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف ملک کو مشکل حالات میں بہتر انداز میں آگے لے جا رہے ہیں، جو قابل تحسین ہے۔ وزیراعلی نے عوام پر زور دیا کہ وہ موجودہ بحران کو سمجھیں اور غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی قسم کا مکمل لاک ڈان نافذ نہیں کر رہی بلکہ صرف محدود اوقات کار کے ذریعے توانائی کے استعمال کو کم اور معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔