بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے نظام زندگی بری طرح متاثر وندر، 8 گھنٹوں کی مسلسل موسلا دھار بارش سے نظامِ زندگی مفلوج، نشیبی علاقے اور مکانات زیرِ آب نکاسیِ آب کا نظام ناکام، کے الیکٹرک کی طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا

وندر(نیوزڈیسک)بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

کوئٹہ میں تیز ہوا کے ساتھ موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کردیا جب کہ چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت سمیت بلوچستان کے شمالی علاقوں میں طوفانی بارش اور ژالہ باری ریکارڈ کی گئی، بارش کے باعث سیب، خوبانی، چیری، بادام، انجیر، آلوچے اور انار کے باغات کو نقصان پہنچا۔

اس کے علاوہ ہرنائی، چمن، قلات، سوراب اور دیگر علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں اور گاڑیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔

ادھر تحصیل گلستان میں مسافر وین اور ٹرک پانی میں بہہ گیا جس پر 12افراد کو ریسکیو کرلیا گیا، ہرنائی میں ریلے میں پھنسی گاڑی میں سوار افراد نے چھلانگ لگا کر جان بچائی جب کہ 6 ٹرک بھی سیلابی ندی میں پھنس گئے۔

بولان اور باجوڑ میں آسمانی بجلی اور مکان کی چھت گرنے سے خواتین بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی، بھکر میں بارش سے کمرے کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں خاتون جاں بحق اور بچہ زخمی ہوگیا۔

وندر گردونواح میں 8 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی موسلا دھار بارش نے پورے علاقے کو جل تھل کر کے رکھ دیا۔ نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے

گلیاں بازار اور رہائشی محلے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے جبکہ متعدد گھروں میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں جس سے شہریوں کو شدید مالی و ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ نکاسی آب کا ناقص اور فرسودہ نظام مکمل طور پر جواب دے گیا

انتظامیہ کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی۔ K الیکٹرک نے بارش کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی کی فراہمی معطل کر دی جس کے باعث شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کی علی الصباح ہلکی بوندا باندی سے شروع ہونے والا سلسلہ کچھ ہی دیر میں گرج چمک تیز ہواں اور کالی گھٹاں کے ساتھ شدید بارش میں تبدیل ہو گیا جس نے شہر کے کمزور انفراسٹرکچر کا پول کھول کر رکھ دیا۔

سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں کئی مقامات پر پانی جمع ہونے سے موٹر سائیکل سوار رکشہ ڈرائیورز اور پیدل چلنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ کیچڑ گندگی اور کھڑے پانی نے آمد و رفت کو ناممکن بنا دیا۔ شہریوں نے شدید غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے دوران اسی طرح صورتحال پیدا ہوتی ہے مگر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نہ تو پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور نہ ہی ہنگامی بنیادوں پر مثر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جس کے باعث عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت مسائل سے نمٹنا پڑتا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی ناقص حکمت عملی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ عوام کے لیے مستقل عذاب بن چکا ہے جو معمولی بارش کو جواز بنا کر طویل لوڈشیڈنگ کرتی ہے اور کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں بروقت بحالی یقینی بنانے میں ناکام رہتی ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے نکاسی آب کے مثر نظام کی بحالی ہنگامی ریلیف اقدامات اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔