بلوچستان کے سڑک منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، بلوچستان ہائی کورٹ متعلقہ حکام کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے،چیف جسٹس کامران خان ملاخیل

کوئٹہ(نیوزڈیسک)بلوچستان ہائی کورٹ میں مختلف سڑک منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت چیف جسٹس جناب محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس جناب محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران متعدد منصوبوں کی پیش رفت اور لاگت میں اضافے سے متعلق اہم نکات سامنے آئے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ژوب۔میر علی خیل روڈ منصوبے میں ڈیزائن اور منصوبہ بندی میں تبدیلی کے باعث لاگت میں تقریبا ڈھائی ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ترقیاتی منصوبوں میں مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

تاہم عدالت نے منصوبوں سے متعلق تکنیکی اور مالی مسائل کے باعث فی الحال حتمی حکم جاری کرنے سے گریز کیا۔سماعت کے دوران سپیرا راغہ روڈ منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے عدالت میں متضاد بیانات بھی سامنے آئے۔ متعلقہ ایس ڈی او نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے پر 95 فیصد ارتھ ورک مکمل کیا جا چکا ہے

جبکہ درخواست گزار کے وکیل حمید اللہ ناصر نے مقف اختیار کیا کہ سائٹ کے دورے کے دوران کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آئی۔اس صورتحال پر عدالت نے ہدایت کی کہ سرکاری حکام اور وکلا پر مشتمل ایک مشترکہ وفد منصوبے کی سائٹ کا دورہ کرے

تاکہ اصل صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ یہ وفد 26 مارچ تک سائٹ کا دورہ مکمل کرے اور 28 مارچ تک اپنی تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔بعد ازاں بلوچستان ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی اور حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔