اسلام آباد(نیوزڈیسک)گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان میں مقیم 20 لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے وطن واپس چلے گئے تاہم انخلاء کا عمل تاحال جاری ہے۔
اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے ترجمان قیصر خان آفریدی کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان میں مقیم 20 لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ واپسی اور سرکاری اقدامات کے تحت افغان شہریوں کی مرحلہ وار واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
اس حوالے سے صوبائی محکمہ داخلہ نے بتایا کہ لنڈی کوتل ٹرانزٹ کیمپ سے افغان شہریوں کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے، تازہ اعداد و شمار کے مطابق اے سی سی (افغان سٹیزن کارڈ) ہولڈرز کے 29 خاندانوں پر مشتمل 130 افراد کو وطن واپس روانہ کیا گیا۔
محکمہ داخلہ نے مزید بتایا کہ پی او آر (پروف آف رجسٹریشن) کارڈ رکھنے والے 174 خاندانوں کے 784 افراد بھی حالیہ دنوں میں افغانستان جاچکے ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم 21 خاندانوں سمیت 108 افراد کو بھی واپس بھیج دیا گیا۔
یو این ایچ سی آر پاکستان کے ترجمان قیصر خان آفریدی کے مطابق ستمبر 2023 سے طورخم سمیت مختلف سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے مجموعی طور پر 20 لاکھ 75 ہزار افغان شہری افغانستان واپس جاچکے ہیں، ان میں رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افراد کے ساتھ ساتھ وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں قانونی کارروائی کے بعد ملک بدر کیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اس عرصے کے دوران تقریباً 2 لاکھ 4 ہزار افغان شہریوں کو جبری طور پر بے دخل کیا گیا۔
ڈھائی سال میں 20 لاکھ سے زائد افغان شہری وطن واپس، انخلاء کا عمل جاری
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں قانون کے مطابق جاری رہیں گی، جبکہ رجسٹرڈ افغان شہریوں کی واپسی کے لیے سہولت کاری بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق طورخم سمیت دیگر سرحدی راستوں پر انتظامات کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ واپسی کے عمل کو منظم اور محفوظ انداز میں مکمل کیا جا سکے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کے انخلاء کا سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا۔
گورنر راج کا نفاذ آئین پاکستان کا قانونی حصہ ہے، اسے غیر آئینی قرار دینا درست نہیں ہے جہاں صوبائی حکومتیں ناکام ہوں اور عدم تعاون کریں وہاں آئینی تقاضوں کے تحت گورنر راج پر غور ناگزیر ہو جاتا ہے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی، کیپٹن (ر)عبدالخالق خان اچکزئیڈیرہ بگٹی: فراری کمانڈر نور خان بگٹی ساتھیوں سمیت وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے سرنڈر، قومی دھارے میں شامل وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کھلی کچہری کے دوران فراری کمانڈر نور خان بگٹی کی جانب سے سرنڈر کرنے کی تقریبخیبرپختونخوا کے 8 قبائلی اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگائی جائے گینیشنل ہائی وے پر مسلح افراد کی تین مقامات پر فائرنگ و لوٹ مار، ایس ایس پی کچھی کی گاڑی پر بھی حملہ مسافر کوچز پر فائرنگ اور بدامنی کے خلاف ٹرانسپورٹروں کا ناڑی بینک کے مقام پر قومی شاہراہ بلاک کر کے دھرنابارکھان کے علاقے راڑہ شم سے ملنے والے افراد کے نام اور ابتدائی کوائف جاری کر دیے گئے کچھ افراد کے شناختی کارڈز کا تعلق کوہلو سے ہے جبکہ دیگر کی باضابطہ تصدیق جاری ہے، انتظامیہبلوچستان حکومت اور عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں وزیراعلی کے پی محاذ آرائی کے بجائے نوجوانوں کی ترقی اور روشن مستقبل پر توجہ دیں،صوبائی وزیر داخلہ، میر ضیا اللہ لانگوبلوچستان کے مختلف اضلاع میں فائرنگ کے واقعات اور تشدد کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے اوستہ محمد، دالبندین اور اورناچ میں فائرنگ سے ہلاکتیں، قلات سے تشدد زدہ لاش بھی برآمد، پولیسبلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک شرافت کو کمزوری نہ سمجھا جائے، جے یو آئی بلوچستان اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی صوبے میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور جرائم عروج پر ہیں، حکومت ذمہ داری پوری کرے، صوبائی اسمبلی کے اراکین اور عاملہ سے گفتگو بلوچستان میڈیا فورم شعبہ خواتین کا اعلان صدف غوری صدر، فائزہ صدیقی جنرل سیکرٹری نرگس نہاں سیکرٹری اطلاعات ہونگی، مرکزی اعلامیہ کوئٹہ، ایڈیشنل سیشن جج کے مبینہ لاپتہ ہونے کا واقعہ، بلوچستان بار کونسل کا صوبے بھر میں عدالتی امور کے بائیکاٹ کا اعلان واقعہ کی فوری تحقیقات کرکے جج کو بازیاب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، بار کونسل کا مطالبہحکومت گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غورکررہی ہے: خواجہ آصف اورماڑہ، پولیس اور پاک آرمی کی مشترکہ کارروائی، غیر قانونی طور پر ایران جانے والے ڈرائیور سمیت 4 ملزمان گرفتار ڈی آئی جی مکران اور ایس ایس پی گوادر کی ہدایات پر اسنیپ چیکنگ، ملزمان کو مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا *وزیراعلیٰ نے اتنی معافیاں مانگیں کہ اب معافیاں بھی بدنام ہوگئیں، مولانا عبد الواسعکوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج اسد اللہ رئیسانی لاپتہ ہو گئے دوسری جانب واقعے کے حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی‘خاندانی زرائع

