میڈیا ورکرز کا تحفظ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے آزادیِ صحافت کو درپیش چیلنجز پر سنجیدہ توجہ ناگزیر ہے پیکا قانون کے خلاف ملک گیر سطح پر تین مرحلوں میں احتجاج کیا گیا، جس کا مقصد آزادیِ اظہار پر قدغنوں کی نشاندہی تھا‘ صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس افضل بٹ

کوئٹہ(اے این این/ ثبوت نیوز)صحافتی تنظیموں‘ سول سوسائٹیز اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ آزادیِ صحافت کو درپیش چیلنجز پر سنجیدہ توجہ ناگزیر ہے ذمہ داری کے ساتھ آزادیِ اظہار ہی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے

میڈیا ورکرز کا تحفظ، معلومات تک رسائی اور معاشی مسائل فوری حل طلب ہیں انہوں نے زوردیا کہ کرپشن اور عوامی مفاد کے معاملات پر تحقیقاتی رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے مکالمے اور اصلاحات کے ذریعے میڈیا کے مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے

پر سنسرشپ اور بعض قانونی ترامیم پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا‘ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ بلوچستان کے سیاسی امور برائے میڈیا شاہد رند‘پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر افضل بٹ‘ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور رند‘ کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید‘پی ایف یو جے سابق جنرل سیکرٹری ناصر حسین زیدی اور دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ میڈیا کنونشن 2026کے زیر اہتمام خطاب کرتے ہوئے کیا

صوبے بھر سے صحافیوں، میڈیا ورکرز، سینئر تجزیہ کاروں، اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کنونشن کا اہتمام پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ)، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (BUJ) اور پریس کلب کوئٹہ کے اشتراک سے کیا گیا۔

تقریب میں آزادیِ صحافت، پیکا قانون، سنسرشپ، صحافیوں کے تحفظ، اور میڈیا انڈسٹری کو درپیش معاشی چیلنجز جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے‘ اس موقع پرجماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ‘ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال

نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اسحاق بلوچ‘ عوامی نیشنل پارٹی کے سردار رشید ناصر‘ پاکستان تحریک انصاف کے خورشید کاکڑ‘ پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کے عیسیٰ روشان‘ سول سوسائٹیز کے ثناء درانی‘ علاؤ الدین خلجی سمیت دیگر نے خطاب اور تجاویز دئیے

تقریب کے آغاز پر منتظمین نے کہا کہ کنونشن کا مقصد میڈیا برادری کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا اور پالیسی سازوں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی، پیشہ ورانہ خودمختاری اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے سیاسی امور برائے میڈیا شاہد رند نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کو“آئیڈیل”نہیں کہتے، تاہم ان کے بقول دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں صحافتی آزادی موجود ہے۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ کرپشن اور عوامی مفاد کے معاملات پر تحقیقاتی اسٹوریز کریں

مگر کسی کی ذاتیات پر کیچڑ نہ اچھالیں۔شاہد رند نے سرکاری محکموں میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو آئندہ چند برسوں میں ڈی جی پی آر جیسے اداروں کی افادیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری اطلاعاتی نظام میں پیشہ ورانہ صلاحیت اور اہلیت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے PFUJ کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ پیکا قانون کے خلاف ملک گیر سطح پر تین مرحلوں میں احتجاج کیا گیا

جس کا مقصد آزادیِ اظہار پر قدغنوں کی نشاندہی تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ PFUJ میڈیا کی آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ دیکھتی ہے اور ایک متوازن، شفاف میڈیا ریگولیشن کی حامی ہے۔افضل بٹ کا کہنا تھا کہ میڈیا کو اس وقت بے پناہ پابندیوں کا سامنا ہے

یہاں تک کہ“ہم ایک نقطہ بھی اپنی مرضی سے نہیں لگا سکتے”۔ انہوں نے کہا کہ صحافی ہمیشہ سیاسی قیادت کا مؤقف سنتے آئے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی رہنما بھی میڈیا ورکرز کے مسائل پر سنجیدگی سے بات کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ PFUJ عوام کے حقِ آزادیِ اظہار کی جنگ لڑ رہی ہے

اور پریس فریڈم موومنٹ اسی وقت چلائی جاتی ہے جب عوام سے بولنے کا حق چھینا جائے۔ ان کے مطابق تنظیم نے ایک مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت شق وار آزادیِ اظہار کی تحریک چلائی جائے گی تاکہ آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے

صدر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس منظور بلوچ نے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں میڈیا ہمیشہ متحرک اور فعال رہا، تاہم چند بنیادی مسائل کے باعث یہ سرگرمی متاثر ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیا ورکرز کا تحفظ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور گزشتہ برسوں میں تقریباً 30 صحافیوں کی شہادت اس تلخ حقیقت کی عکاس ہے۔

منظور بلوچ نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے صحافیوں کو ٹرولنگ اور ہراسانی کا سامنا ہے جبکہ پیکا قانون کے تحت دباؤ کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین پر عملدرآمد کی کمی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صحافیوں اور عوام کو معلومات تک مؤثر رسائی حاصل نہیں۔

معاشی مشکلات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا ورکرز کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ایک سنگین مسئلہ ہے، کئی اداروں میں تین تین ماہ بعد تنخواہیں ملتی ہیں جبکہ متعدد ٹی وی چینلز کے بیوروز بند ہو چکے ہیں

جس سے روزگار کے مواقع محدود اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔PFUJ کے سابق جنرل سیکرٹری ناصر حسین زیدی نے کہا کہ پاکستان میں سنسرشپ کا مسئلہ نیا نہیں بلکہ تاریخی نوعیت رکھتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں قائد اعظم محمد علی جناح کی 1948 کی تقریر کو بھی سنسر کیا گیا، جو آزادیِ اظہار کے حوالے سے ایک اہم مثال ہے‘ناصر حسین زیدی کے مطابق صحافیوں کو دورانِ ڈیوٹی سیکیورٹی خطرات اور دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے

جبکہ صحافیوں کے سیفٹی قانون کی شق 12 اے میں ترمیم سے انوسٹی گیٹو رپورٹنگ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے پیکا ایکٹ میں حالیہ ترامیم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے صحافتی آزادی پر قدغن کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

کنونشن کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آزادیِ اظہار، صحافیوں کے تحفظ، اور میڈیا انڈسٹری کی معاشی بحالی کے لیے مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ پیکا قانون سمیت متعلقہ قوانین پر میڈیا اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے

رائٹ ٹو انفارمیشن پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اور میڈیا ورکرز کے لیے محفوظ اور مستحکم کام کا ماحول فراہم کیا جائے۔شرکاء نے امید ظاہر کی کہ ایسے مکالمے پالیسی سازی میں مثبت کردار ادا کریں گے اور میڈیا و ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ ملے گا۔

کنونشن کو بلوچستان میں صحافتی برادری کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا، جہاں کھلے مباحثے کے ذریعے مسائل اور حل دونوں پر سنجیدہ گفتگو سامنے آئی۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭