کابل(نیوزڈیسک) افغانستان طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں مختلف مقامات پر دہشتگردوں کے 7ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں۔ دہشتگردوں نے حال ہی میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں کارروائیاں کیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں نے قبول کی ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشتگرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کی گئیں۔
وزارت کے مطابق پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگرد تنظیموں اور پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاہم افغان عبوری حکومت اس سلسلے میں مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جوابی کارروائی کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے 7 کیمپس اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم پاکستانی عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔پاکستان نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغان طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے تاکہ خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔گذشتہ رات ننگرہار صوبے کے ضلع بہسود کے علاقے کردی کس میں ایک گھر پر پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی تدفین کا عمل جاری ہے۔
بی بی سی فارسی کی یما بارز نے افغانستان سے رپورٹ کیا ہے کہ اس خاندان کے مزید پانچ افراد کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔بی بی سی پشتو کے مطابق گذشتہ رات بہسود کے علاوہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل میں بھی فضائی حملے کیے گئے، اسی طرح پکتیکا کے برمل اور ارگون میں بھی حملے ہوئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں افغانستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔کرزئی کے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا گیا: ’میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعاگو ہوں۔‘
حامد کرزئی نے ایک بار پھر پاکستان پر زور دیا کہ وہ ’افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے اور اچھے ہمسایہ تعلقات اور مہذب رویہ اپنائے۔‘2 گھنٹے قبلعبداللہ عبداللہ: بمباری کوئی حل ہیں، دونوں فریقین کو بات کرنی چاہیے
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ایسے اقدامات افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں اور یہ عدم استحکام اور بحران کو بڑھا دیں گے۔‘
عبداللہ نے مزید کہا: ’بمباری، شہریوں کو نشانہ بنانا اور تشدد کوئی حل نہیں ہے، دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو حل کرنے کا بہترین طریقہ بات چیت اور مذاکرات ہے۔‘
پاکستانی حکومت گذشتہ کچھ عرصے سے تسلسل سے یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
گذشتہ برس ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے سبب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متعدد سرحدی جھڑپیں اور فضائی حملے دیکھنے میں آئے جس کے بعد قطر اور ترکی کی کوششوں سے دونوں ممالک میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔
جہاں پاکستان افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کرنے کا الزام کرتا ہے وہیں افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکام اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
گذشتہ شب کے حملے سے قبل 25 نومبر 2025 کو افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 10 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں میں مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے جواب می پاکستانی فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی اور بغیر پیشگی اطلاع کے حملہ نہیں کرتی۔
نو اکتوبر 2025 کی شب افغانستان کی وزراتِ دفاع کی جانب سے پاکستان پر فضائی حدود کی خلاف ورزی اور کابل سمیت دو مقامات پر فضائی حملوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر افغان وزاتِ دفاع کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’پاکستان نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور کابل اور ڈیورنڈ لائن کے قریب پکتیکا کے علاقے میں ایک بازار پر بمباری کی ہے۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ افغان فورسز اور شدت پسندوں کے ساتھ ان جھڑپوں میں 23 پاکستانی ہلاک جبکہ 29 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مصدقہ انٹیلی جنس اندازوں اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زیادہ طالبان اور اس سے منسلک شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آئی ایس پی آر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانستان کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ پر جوابی کارروائی میں پاکستانی فورسز نے طالبان کی متعدد پوسٹوں، کیمپوں، ہیڈکوارٹرز اور شدت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا جو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہا تھا۔
دوسری طرف افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے افغانستان پر مختلف حملوں کے جواب میں کی گئی کارروائیوں میں پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوئے۔
3 گھنٹے قبلایران میں گذشتہ ماہ کے احتجاج اور کریک ڈاؤن کے بعد طلبہ کے حکومت مخالف مظاہرے
بی بی سی نے اس فوٹیج کی تصدیق کی ہے جس میں مظاہرین کو سنیچر کے روز دارالحکومت تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں مارچ کرتے دیکھا گیا۔ بعد میں ان طلبہ اور حکومت کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
تہران کی ایک اور یونیورسٹی میں دھرنا دیا گیا اور شمال مشرق میں ایک ریلی کی اطلاع ملی ہے۔ یہ طلبہ جنوری میں مارے جانے والوں کی یاد میں مظاہرے کر رہے تھے۔
خیال رہے امریکہ نے ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
طالبان حکام نے ان حملوں میں درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر جواب دیا جائے گا۔
بی بی سی پشتو کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک مکان پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صوبہ ننگرہار میں طالبان حکومت کے وزارتِ اطلاعات اور ثقافت کے سربراہ امر قریشی بدلون نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں جبکہ باقی چھ خواتین اور مرد تھے۔
بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
بی بی سی پشتو کے مطابق، سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک مکان پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صوبہ ننگرہار میں طالبان حکومت کے وزارتِ اطلاعات اور ثقافت کے سربراہ امر قریشی بدان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں جبکہ باقی چھ خواتین اور مرد تھے۔
بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
امر قریشی کے مطابق پانچ زخمیوں کو ننگرہار کے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
ناسا،تصویر کا ذریعہEPA/ SHUTTERSTOCK
امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ حالیہ جانچ کے دوران کئی مسائل سامنے آنے کے بعد خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا مشن اب چھ مارچ کو روانہ نہیں ہو سکے گا۔
ناسا کا آرٹیمیس II مشن 50 سالوں میں پہلی بار خلابازوں کو چاند پر لے کر جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز خلائی ایجنسی نے کہا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر اس مشن کو خلا میں روانگی کے لیے گرین سگنل مل جائے گا۔
تاہم سنیچر کے روز ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے اعلان کیا کہ جانچ میں سامنے آنے والے مسائل کا مطلب ہے کہ مشن کی روانگی سے قبل مزید کام کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
چار خلابازوں کو 10 دن کے لیے چاند کی دوسری طرف بھیجے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ خلا میں انسانوں کا اب تک کا سب سے دور کا سفر ہو گا۔
آئزک مین کا کہنا ہے انھیں اندازہ ہے اس پیشرفت سے لوگ مایوس ہوں گے خاص طور پر ایسے میں جب جمعرات کو تقریباً 50 گھنٹے کی جانچ پڑتال کے بعد کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا تھا۔
تاہم جمعہ کے روز ناسا کے انجینئرز نے لانچ آپریشن کے لیے درکار ہیلیم کے بہاؤ میں رکاوٹ کا مشاہدہ کیا۔
ناسا کے مطابق، ہیلیم کے بہاؤ میں خلل ایک سنگین تکنیکی مسئلہ ہے۔ ہیلیم کو ایندھن کے ٹینکوں میں دباؤ بنانے اور راکٹ سسٹم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
7 گھنٹے قبل’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا: افغان وزارتِ دفاع کا پاکستانی فضائی حملوں پر ردِعمل
افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
بی بی سی پشتو کے مطابق، افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کو ’افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس عمل کو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت قومی دفاع ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی جائز اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات نے دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
8 گھنٹے قبلننگرہار میں ایک گھر پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 20 افراد مارے گئے ہیں، طالبان حکام کا دعویٰ
افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے کردی کس میں شہاب الدین نامی شخص کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔
متاثرہ خاندان کا ایک فرد کا کہنا ہے کہ ’سب کچھ ختم ہو گیا، میرے بچے چلے گئے، میرا بھائی اور میرا شوہر چلا گیا، اور میری کنواری بیٹیاں ماری گئیں۔‘
عینی شاہدین نے بتایا کہ رات دیر گئے ایک فضائی حملے میں مکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
بی بی سی دری کے مطابق، ننگرہار پولیس کے ترجمان سید طیب حماد نے طلوع نیوز کو بتایا، ’پاکستانی فوج نے صوبے کے ضلع بہسود میں ایک شہری کے گھر کو نشانہ بنایا، جس میں ایک ہی خاندان کے 23 افراد ہلاک ہو گئے۔‘ اب تک ملبے سے صرف چار افراد کو نکالا جاسکا ہے اور جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
بہسود کے علاوہ صوبہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل اضلاع سے بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔
’پکتیکا میں مدرسے کو نشانہ بنایا گیا‘
افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی دری کو بتایا کہ سنیچر کی شب مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ضلع برمل میں فضائی حملے میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جس سے مدرسے کی عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان کے باعث مدرسہ بند ہونے کی وجہ سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بی بی سی دری کو حاصل کردہ ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مدرسے کی عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا ہے جبکہ وہاں موحود کتابوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کا کہنا ہے کہ صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
8 گھنٹے قبلافغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ
ذبیح اللہ مجاہد،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ رات انھوں نے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں ہمارے بے گناہ شہریوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’پاکستانی جرنیل ایسے ہی مجرمانہ اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سکیورٹی کی ناکامیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
22 فروری 2026بریکنگ,پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے: پاکستان
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک حملہ اور سنیچر کے روز بنوں میں ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ سنیچر کے روز بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان میں کارروائی سے متعلق مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، ان کے ساتھی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔‘
بیان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر درستگی اور مہارت کے ساتھ، پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
ایکس پر جاری بیان کے آخر پر پاکستان حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شدت پسندوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘
’پاکستان یہ بھی توقع کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے اور اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘
پی بی 36 قلات میں ہونے والا الیکشن دراصل الیکشن نہیں بلکہ ایک آکشن تھا1 قلات کی نشست پر ہمارے امیدوار کو تقریباً 2000 ووٹوں کی برتری حاصل تھی، لیکن نتائج میں رد و بدل کر کے حقائق کو تبدیل کیا گیا‘صوبائی امیر جمعیت‘ مولانا عبدالواسعبلوچستان کو تھانوں اور چیک پوسٹوں کے بجائے قلم اور کتاب کی ضرورت ہے نوجوان قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، اسلامی جمعیت طلبا کی تعلیمی و اخلاقی تربیت کے لیے خدمات قابلِ تعریف ہیں، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ1کوئٹہ میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈان، 116ملزمان گرفتار پولیس کارروائیوں میں 4 گاڑیاں، 56 موٹر سائیکلیں اور 14 موبائل فون برآمدوزیراعلی بلوچستان کا کفایت شعاری کا بڑا اعلان صوبائی وزرا دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے، سرکاری دفاتر ہفتے میں چار دن کھلیں گے شادی بیاہ میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود اور ایک ڈش کی پابندی، تعلیمی اداروں میں 23 مارچ تک بہار کی تعطیلات کا اعلان بلوچستان کے سڑک منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، بلوچستان ہائی کورٹ متعلقہ حکام کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے،چیف جسٹس کامران خان ملاخیلالیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی بی 36 قلات میں ری پولنگ کے بعد میر ضیا اللہ لانگو کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار فارم 47 کے تحت صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب، سرکاری گزٹ میں اشاعت کا حکم موسم بہار کی آغاز کے ساتھ صوبے میں شجرکاری مہم شروع کی ہے دس لاکھ درخت صوبے میں لگانے ہیں شجرکاری مہم کو تمام مکاتب فکر لوگوں کی مدد سے چلائیں گے اس مہم کے مثبت نتائج آئیں گے‘سیکرٹری جنگلات بلوچستان‘عمران گچکیپی بی 36 قلات، 10 مارچ کو 7 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کے انتظامات مکمل صوبائی الیکشن کمشنر کی شفاف و پرامن پولنگ یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایاتتفتان بارڈر،ایران سے پاکستانیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری، مزید 149 افراد وطن پہنچ گئے کشیدہ صورتحال کے بعد اب تک مجموعی طور پر 2660 پاکستانیوں کو بحفاظت ملک پہنچایا جا چکا ہےچاغی، تفتان بارڈر کے ذریعے ایران سے مزید 532 پاکستانیوں کی وطن واپسی مجموعی تعداد 2511 تک پہنچ گئی، آنے والے افراد کو قافلے کی صورت میں کوئٹہ روانہ کر دیا گیاکور کمانڈر 12 کور کا پاک افغان سرحدی دورہ: ژوب اور سمبازہ میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ دہشت گردوں کے خلاف جوانوں کی جرات مندانہ کارروائیوں کو سراہا، امن و استحکام برقرار رکھنے کا عزم بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، 15 دہشت گرد ہلاک ہرنائی اور بسیمہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد ایران میں اس وقت پاکستان سے تعلق رکھنے والے 33 ہزارے سے زائد لوگ پھنس گئے ہماری کوشش ہوگی کہ اپنے عوام کو جلد سے جلد بحفاظت وطن واپسی روانہ کریں،اسحاق ڈارکوئٹہ: سریاب کی ماسٹر کالونی میں 7 سالہ بچہ پانی کے جوہڑ میں ڈوب گیا بچے کی ڈوبتے ہوئے گزشتہ 30 گھنٹے گزرنے کے باوجود انتظامیہ تاحال نہیں نکال سکا ڈھائی سال میں پاکستان میں مقیم 20 لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔