کوئٹہ‘غیر قانونی رکشے چلنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اکثر رکشے ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ناموں پر چل رہے ہیں اور مہینے میں ایک چالان دیکر پورا ماہ غیر قانونی چل رہے ہیں

کوئٹہ(ثبوت نیوز) کوئٹہ میں غیر قانونی رکشے چلنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور اکثر رکشے ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ناموں پر چل رہے ہیں اور مہینے میں ایک چالان دیکر پورا ماہ غیر قانونی چل رہے ہیں

جس کیلئے ایک اب تک کوئی قانون مرتب نہیں کیاگیا کوئٹہ میں اس وقت قانونی رکشے د س سے پندرہ ہزار جبکہ غیر قانونی رکشے چالیس ہزار سے زائد ہیں

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں جہاں ٹریفک کا نظام احتجاج دھرنوں کے باعث متاثرہوتا ہے وہاں پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی رکشے جو کہ بغیر پرمٹ کے بااثر شخصیات اور خاص کر ٹریفک و پولیس اہلکاروں کے زیر انتظام چل رہے ہیں

جس پر اگر کوئی ہاتھ ڈالتا ہے تو پولیس ان غیر قانونی رکشوں کو بچانے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں اور ٹریفک اہلکار غیر قانونی طور پر چلنے والے رکشوں کو ایک ماہ کے دوران ایک چالان دیکر پورا مہینہ اس چالان کے ذریعے رکشہ چلایا جاتا ہے

اگر کسی اور جگہ پر رکشہ چالان ہوتا ہے تو وہ وہی چالان دکھا کر رکشے کو چھوڑ دیا جاتا ہے کوئٹہ شہر میں پہلے سے ہی سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور ساتھ ہی غیر قانونی رکشوں کی وجہ سے بھی ٹریفک کا نظام ہر روز متاثر ہوتا ہے

اور پھر ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ رکشے چلارہے ہیں جن کے پاس نہ کوئی لائسنس ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی فٹنس سرٹیفکیٹ ہوتا ہے شہریوں نے ایس ایس پی ٹریفک سے مطالبہ کیا کہ اگر ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنا ہے

تو سب سے پہلے کوئٹہ شہر میں غیر قانونی رکشوں پر ہاتھ ڈالا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔